اگر آج انتخابات ہوں تو 36 فیصد نوجوان پی ٹی آئی اور 33 فیصد ن لیگ کو ووٹ دیں گے، RAI کا سروے
نوجوانوں میں سیاسی شعور کی بہتری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) ریسرچ اینڈ انوویشن (RAI) کی جانب سے جاری کردہ پولیٹیکل سروے 2026 میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان کے نوجوانوں میں سیاسی عمل، حکومتی کارکردگی اور مجموعی ملکی صورتحال کے حوالے سے محتاط امید پیدا ہو رہی ہے، تاہم بے روزگاری، مہنگائی اور کرپشن بدستور بڑے چیلنجز قرار دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آئندہ ہفتہ کیسا گزرے گا؟
سروے کی تفصیلات
جنوری 2026 میں شائع ہونے والا یہ سروے 25 ہزار سے زائد نوجوانوں پر مشتمل ہے، جسے 95 فیصد اعتماد کی سطح کے ساتھ مرتب کیا گیا۔ سروے کے مطابق 26 فیصد نوجوانوں کا خیال ہے کہ پاکستان درست سمت میں جا رہا ہے، جو گزشتہ سال 21 فیصد تھا، جبکہ ملک کو غلط سمت میں جاتا دیکھنے والوں کی شرح کم ہو کر 46 فیصد رہ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور، وکیل نے بسنت منانے کے لیے سیشن کورٹ کی ہی چھت مانگ لی
حکومتی کارکردگی پر نوجوانوں کی رائے
سروے نتائج کے مطابق موجودہ حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نوجوانوں کی شرح 40 فیصد تک پہنچ گئی، جو پچھلے سال 27 فیصد تھی۔ صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر اطمینان 43 فیصد رہا، جبکہ وفاقی حکومت کی کارکردگی پر اطمینان کی شرح 38 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پی ٹی آئی حکومت میں ترقیاتی منصوبوں میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع، تفصیلات طلب کرلی گئیں
سیاسی جماعتوں کی مقبولیت
سیاسی جماعتوں کے حوالے سے سوال پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کو گزشتہ دہائی میں ملکی ترقی میں سب سے زیادہ کردار ادا کرنے والی جماعت قرار دیا گیا، تاہم تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان فرق نمایاں طور پر کم ہو چکا ہے۔ اگر آج انتخابات ہوں تو 36 فیصد نوجوان پی ٹی آئی اور 33 فیصد ن لیگ کو ووٹ دینے کے خواہاں ہیں، جبکہ 24 فیصد تاحال غیر فیصلہ شدہ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 7 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی کوشش کرنے والا سفاک ملزم گرفتار
قیادت کی خصوصیات
نوجوانوں کے نزدیک قیادت کی سب سے اہم خصوصیات میں دیانت داری، مضبوط معاشی وژن، شفافیت اور احتساب سرفہرست ہیں۔ حکومتی ترجیحات کے حوالے سے تعلیم، صحت، سماجی بہبود، انفراسٹرکچر اور معاشی اصلاحات کو سب سے اہم قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا مفتی اعظم شیخ عبد العزیز بن عبداللہ آل الشیخ کے انتقال پر اظہار افسوس
معاشی چیلنجز
معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے سروے میں بتایا گیا کہ بے روزگاری، کرپشن، امن و امان، غربت اور مہنگائی نوجوانوں کے لیے سب سے بڑے مسائل ہیں۔ اگرچہ 17 فیصد نوجوانوں نے اپنی ذاتی مالی حالت میں بہتری کی نشاندہی کی، لیکن بڑی تعداد اب بھی معاشی دباؤ کا شکار ہے۔
سیاسی شرکت میں اضافہ
سروے کے مطابق نوجوانوں میں سیاسی شعور اور شرکت میں اضافہ ہوا ہے، 70 فیصد نوجوان ووٹ ڈالنے کے خواہاں ہیں جبکہ 74 فیصد ووٹر لسٹ میں رجسٹرڈ ہیں۔ مجموعی طور پر رپورٹ میں نوجوانوں کے رویے کو "محتاط امید" قرار دیا گیا ہے، جس میں بہتری کے آثار تو موجود ہیں، مگر حکمرانی، احتساب اور معاشی نظم و نسق پر سنجیدہ کام کی فوری ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔








