28 جنوری کو یاسین ملک کو پھانسی دیئے جانے کا خدشہ ہے:مشعال ملک
یاسین ملک کی رہائی کا مطالبہ
راولپنڈی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کی تہاڑ جیل میں قید حریت رہنما یاسین ملک کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مشال ملک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یاسین ملک کو 28 جنوری کو پھانسی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، میں صرف اپنے شوہر کے لیے نہیں بلکہ لاکھوں شہداء کے لیے نکلی ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: 299 بچوں اور مریضوں کے ساتھ زیادتی کرنے والے ڈاکٹر کو سزا سنادی گئی
کشمیری تحریک کا مقصد
راولپنڈی راجہ بازار کے باجوڑ پلازہ میں تاجروں سے خطاب کرتے ہوئے مشعال ملک نے کہا کہ کشمیر کی تحریک سیاست نہیں، قربانی اور انسانیت کی تحریک ہے۔ ہم ووٹ یا اقتدار کے لیے نہیں نکلے، کشمیری اور فلسطینی آج حق و باطل کی سب سے بڑی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مودی کے دور میں مقبوضہ کشمیر میں بدترین نسل کشی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ سے جرمنی کی سفیر کی اہم ملاقات
عزت کی پامالی اور خاموشی کا ظلم
مشال ملک نے مزید کہا کہ کشمیری ماؤں، بہنوں اور بیٹیوں کی عزتیں پامال کی گئیں ہیں۔ لاکھوں کشمیری شہید اور ہزاروں لاپتہ ہیں، مگر دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ مساجد شہید کی جا رہی ہیں، خاموشی ظلم کو طاقت دیتی ہے، خوف کے بت توڑنا ہوں گے۔
یاسین ملک کی قید کی صورتحال
مشال ملک نے کہا کہ یاسین ملک ساڑھے چھ سال سے تنہائی سیل میں قید ہیں، انہیں وکیل اور اہلِ خانہ سے ملاقات کا حق نہیں دیا جا رہا۔








