ایران جنگ نہیں چاہتا، مگر تیار ہے، عباس عراقچی
ایران کی جنگ کی خواہش نہیں
بیروت (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نہ اسرائیل اور نہ ہی امریکا کے ساتھ جنگ کا خواہاں ہے، تاہم اگر ایک بار پھر حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیرف میں اضافے کے اعلان کے بعد ایپل نے 600 ٹن آئی فون بھارت سے امریکا پہنچادیئے
مذاکرات کا پیغام
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے، لیکن یہ مذاکرات باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، نہ کہ واشنگٹن کی جانب سے “حکم نامے” کی صورت میں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کاکشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں پر ثالثی عدالت کے ضمنی فیصلے کا خیرمقدم
خطرات کی نشاندہی
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ خطے میں خدشات پائے جا رہے ہیں کہ امریکا کا قریبی اتحادی اسرائیل ایک بار پھر ایران کو نشانہ بنا سکتا ہے، جیسا کہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران ہوا، جس میں اسرائیل نے ایرانی فوج کے اعلیٰ افسران اور جوہری سائنس دانوں کو قتل کیا، جبکہ امریکا نے ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیبات پر بمباری کی۔
یہ بھی پڑھیں: صوابی کے گاؤں گندف میں پراسرار بیماری سے 4 بچے جاں بحق
امریکا اور اسرائیل کی ناکام حکمت عملی
عباس عراقچی نے کہا، “امریکا اور اسرائیل ایران پر حملے کی آزمائش کر چکے ہیں، مگر یہ حکمت عملی بری طرح ناکام رہی۔ اگر وہ اسے دوبارہ دہرائیں گے تو انہیں وہی نتائج بھگتنا ہوں گے۔”
یہ بھی پڑھیں: ہمارا باورچی مزارعہ کا ان پڑھ بیٹا تھا، ڈانٹ سے تنگ آکر ایک دن پوچھا، صاحب جی، یہ IDIOT کیا ہوتا ہے؟ میں نے شرارتاً کہا، بہت خوب، شاباش.
تیاری اور مذاکرات
انہوں نے مزید کہا، “ہم کسی بھی آپشن کے لیے تیار ہیں۔ ہم جنگ نہیں چاہتے، مگر اس کے لیے تیار ہیں۔”
ایرانی وزیر خارجہ نے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا، “ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ مذاکرات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہوں۔ جب امریکا یہ سمجھے گا کہ حکم چلانے کے بجائے تعمیری اور مثبت مذاکرات ہی درست راستہ ہیں، تب ہی ان مذاکرات کے نتائج نکل سکتے ہیں۔”
حزب اللہ کی سرگرمیاں
عباس عراقچی کا دورۂ بیروت ایسے وقت میں ہوا ہے جب لبنانی فوج نے ایران نواز تنظیم حزب اللہ سمیت مختلف دھڑوں کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔








