ایران جنگ نہیں چاہتا، مگر تیار ہے، عباس عراقچی
ایران کی جنگ کی خواہش نہیں
بیروت (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نہ اسرائیل اور نہ ہی امریکا کے ساتھ جنگ کا خواہاں ہے، تاہم اگر ایک بار پھر حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کی سری لنکا کے صدر سے ملاقات
مذاکرات کا پیغام
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے، لیکن یہ مذاکرات باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، نہ کہ واشنگٹن کی جانب سے “حکم نامے” کی صورت میں۔
یہ بھی پڑھیں: وقت نے معاشرے میں برداشت اور رواداری بھی کم کر دی۔ دوسرے کے نقطہ نظر کی اہمیت تب تک ہے جب تک وہ ہمارے نقطہ نظر کو سوٹ کرتی ہے۔
خطرات کی نشاندہی
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ خطے میں خدشات پائے جا رہے ہیں کہ امریکا کا قریبی اتحادی اسرائیل ایک بار پھر ایران کو نشانہ بنا سکتا ہے، جیسا کہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران ہوا، جس میں اسرائیل نے ایرانی فوج کے اعلیٰ افسران اور جوہری سائنس دانوں کو قتل کیا، جبکہ امریکا نے ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیبات پر بمباری کی۔
یہ بھی پڑھیں: بابر اعظم کے خلاف مبینہ ہراسانی کیس کی سماعت 16دسمبر تک ملتوی
امریکا اور اسرائیل کی ناکام حکمت عملی
عباس عراقچی نے کہا، “امریکا اور اسرائیل ایران پر حملے کی آزمائش کر چکے ہیں، مگر یہ حکمت عملی بری طرح ناکام رہی۔ اگر وہ اسے دوبارہ دہرائیں گے تو انہیں وہی نتائج بھگتنا ہوں گے۔”
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت نے سیاحتی مقامات پر سیاحوں کو جانے سے روک دیا
تیاری اور مذاکرات
انہوں نے مزید کہا، “ہم کسی بھی آپشن کے لیے تیار ہیں۔ ہم جنگ نہیں چاہتے، مگر اس کے لیے تیار ہیں۔”
ایرانی وزیر خارجہ نے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا، “ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ مذاکرات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہوں۔ جب امریکا یہ سمجھے گا کہ حکم چلانے کے بجائے تعمیری اور مثبت مذاکرات ہی درست راستہ ہیں، تب ہی ان مذاکرات کے نتائج نکل سکتے ہیں۔”
حزب اللہ کی سرگرمیاں
عباس عراقچی کا دورۂ بیروت ایسے وقت میں ہوا ہے جب لبنانی فوج نے ایران نواز تنظیم حزب اللہ سمیت مختلف دھڑوں کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔








