ایران جنگ نہیں چاہتا، مگر تیار ہے، عباس عراقچی
ایران کی جنگ کی خواہش نہیں
بیروت (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران نہ اسرائیل اور نہ ہی امریکا کے ساتھ جنگ کا خواہاں ہے، تاہم اگر ایک بار پھر حملہ کیا گیا تو بھرپور جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کچھ واقعات بھلائے نہیں جا سکتے جب یاد آتے ہیں خوف کی دبیز لہر دل و دماغ میں اتار جاتے ہیں یہ بھی ایسا ہی واقعہ تھا، تھکن اور بھوک سے برا حال تھا۔
مذاکرات کا پیغام
لبنان کے دارالحکومت بیروت میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام پر امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھی تیار ہے، لیکن یہ مذاکرات باہمی احترام اور مفادات کی بنیاد پر ہونے چاہئیں، نہ کہ واشنگٹن کی جانب سے “حکم نامے” کی صورت میں۔
یہ بھی پڑھیں: ویڈیو: ریسکیو 1122 کا اہلکار لوگوں کی جان بچاتے ہوئے شہید ہو گیا، 2 دن بعد باپ بننے والا تھا
خطرات کی نشاندہی
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ خطے میں خدشات پائے جا رہے ہیں کہ امریکا کا قریبی اتحادی اسرائیل ایک بار پھر ایران کو نشانہ بنا سکتا ہے، جیسا کہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران ہوا، جس میں اسرائیل نے ایرانی فوج کے اعلیٰ افسران اور جوہری سائنس دانوں کو قتل کیا، جبکہ امریکا نے ایران کی جوہری افزودگی کی تنصیبات پر بمباری کی۔
یہ بھی پڑھیں: تین ملکی ٹی20 سیریز: پاکستان نے امارات کو 31 رنز کے فرق سے زیر کر لیا
امریکا اور اسرائیل کی ناکام حکمت عملی
عباس عراقچی نے کہا، “امریکا اور اسرائیل ایران پر حملے کی آزمائش کر چکے ہیں، مگر یہ حکمت عملی بری طرح ناکام رہی۔ اگر وہ اسے دوبارہ دہرائیں گے تو انہیں وہی نتائج بھگتنا ہوں گے۔”
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں پہلی مرتبہ اینٹی ڈرون یونٹ قائم کرنے کا فیصلہ، فوری طور پر سائبرکرائم سیل قائم کرنے کا حکم، خصوصی ڈیش بورڈ بھی قائم
تیاری اور مذاکرات
انہوں نے مزید کہا، “ہم کسی بھی آپشن کے لیے تیار ہیں۔ ہم جنگ نہیں چاہتے، مگر اس کے لیے تیار ہیں۔”
ایرانی وزیر خارجہ نے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا، “ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ مذاکرات باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر ہوں۔ جب امریکا یہ سمجھے گا کہ حکم چلانے کے بجائے تعمیری اور مثبت مذاکرات ہی درست راستہ ہیں، تب ہی ان مذاکرات کے نتائج نکل سکتے ہیں۔”
حزب اللہ کی سرگرمیاں
عباس عراقچی کا دورۂ بیروت ایسے وقت میں ہوا ہے جب لبنانی فوج نے ایران نواز تنظیم حزب اللہ سمیت مختلف دھڑوں کو غیر مسلح کرنے کے منصوبے کے پہلے مرحلے کی تکمیل کا اعلان کیا ہے۔








