مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کو روکنا تمام علماء کرام کی ذمہ داری ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب کا خطاب
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے علما کرام میں اعزازیہ کارڈ تقسیم کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی منافرت اور فرقہ واریت کو روکنا تمام علماء کرام کی ذمہ داری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بھارت لڑائی سے چینی ہتھیاروں کی ساکھ بن گئی، بلوم برگ نے بھی اعتراف کر لیا، پوری دنیا میں پاک افواج کی دھاک بیٹھ گئی
مذہب کے نام پر فتنہ
انہوں نے کہا کہ کئی لوگوں نے مذہب کے نام پر فتنے کو فروغ دیا، جس سے معاشرے میں انتشار پیدا ہوا اور رینجرز و پولیس کے جوان شہید ہوئے۔ مریم نواز نے بتایا کہ پورے پنجاب میں 80 ہزار مساجد ہیں اور 70 ہزار مساجد کے امام صاحبان کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں، جنہیں ماہانہ 25 ہزار روپے اعزازیہ دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: مشہور پاکستانی کرکٹر کار حادثے میں جاں بحق، سمپسنز کارٹون کی پیشگوئی؟
اعزازیہ کی ادائیگی کا نظام
وزیراعلیٰ نے کہا کہ یہ رقم چھوٹی سی ہے لیکن آئمہ کرام کی زندگی میں آسانی پیدا کرے گی اور اعزازیہ کی ادائیگی کے لیے آسان اور شفاف نظام ترتیب دیا گیا ہے۔ فروری کے آخر سے ہر امام مسجد کا اکاؤنٹ پنجاب بینک میں کھولا جائے گا تاکہ حکومت اور آئمہ کرام کے درمیان رابطہ مضبوط ہو۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان متحدہ عرب امارات کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کا خواہاں ہے، وزیر اعظم محمد شہباز شریف
فتنے کی سرکوبی کی ضرورت
انہوں نے واضح کیا کہ فتنے کی سرکوبی صرف حکومت کا کام نہیں، بلکہ آئمہ کرام کی معاونت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ستھرا پنجاب کی گاڑیاں اور عوامی املاک جلائی گئی، گزرگاہیں بند کی گئیں، اور کچھ افراد اس کو مذہب کے نام پر درست قرار دیتے ہیں، جو معاشرے کے لیے خطرناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے تک کا اضافہ، سابق وفاقی وزیر عمر ایوب کی جون 2022 کی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی۔
عوام تک حکومت کی آواز
وزیراعلیٰ نے آئمہ کرام سے کہا کہ وہ حکومت کی آواز عوام تک پہنچائیں اور ملک میں اتحاد و امن قائم رکھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاست مظلوم کا انصاف یقینی بنائے گی اور عوام کی جان و مال کی حفاظت ہر صورت میں ہو گی۔
ٹریفک قوانین پر عمل
ساتھ ہی مریم نواز نے ٹریفک قوانین پر عمل کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ یہ سب کی ذمہ داری ہے تاکہ حادثات سے بچا جا سکے اور معاشرہ محفوظ رہے۔








