آپ کی رہنمائی کی منتظر
ایک یادگار تقریب
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 23
چند ہی دنوں بعد سپرنٹڈنٹ صاحب مسلمان لڑکوں کو قصبہ کی مسجد میں ”مولُود شریف“ کی تقریب سعید میں لے گئے۔ مغرب کی نماز سے کچھ ہی دیر پہلے ہم وہاں پہنچ گئے۔ نماز ادا کی۔ پھر تقریب کی تیاری شروع ہوئی اور لوگ صف بندی چھوڑ کر تیاری میں لگ گئے۔ میں مسجد سے باہر ہوا خوری کے لیے نکل گیا۔ دن کی روشنی کچھ مانند پڑ گئی تھی۔ عورتوں کی بھی مسجد کی تقریب میں شمولیت کے لیے آمد شروع ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے متعلق اسکیم میں بڑی تبدیلی کا امکان
پہلا ملاقات
میں وہاں کھڑا اپنی سوچوں میں گم تھا کہ ایک دراز قد متناسب جسم حسینہ اپنے چہرے پر ایک دائمی مسکراہٹ سجائے میرے سامنے آن کھڑی ہوئی۔ اور گویا ہوئی ”میں ہوں حضور صبیحہ رُوحی…… آپ کی رہنمائی کی منتظر“۔ اس اچانک پیار بھرے تعارف نے تو مجھے زمین کی کم مائیگی سے اُٹھا کر فلک کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور ہم ”انجانے نا سمجھ، دیوانے“ فوراً عہد و پیمان پر تُل گئے۔
یہ بھی پڑھیں: نیشنز ہاکی کپ ملائیشیا کے لیے 20 رکنی قومی اسکواڈ کا اعلان
زندگی کی مشکلات
پھر جلد ہی پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے اعلان کے بعد ظلم و بربرّیت کا لاوا پھوٹ پڑا تھا۔ تلواروں، برچھوں اور بندوقوں کا رُخ نہتّے مسلمانوں کی طرف جو ہوا تو قتل و غارت گری نے سانس نہ لینے دیا۔ لاشوں کے کُشتے کے پُشتے لگ گئے۔ نہ بچّہ بچا نہ بُوڑھا۔ جواں تو تھا ہی مُوردِ گردن زدنی۔ عورتیں بھی تہہ تیغ ہوئیں۔ جواں سال بہو بیٹیوں کی عصمت تار تار ہوئی۔ جو بچے وہ کیمپوں میں بارشوں، بیماریوں اور بھوک نے آ گھیرے اور مرنے والوں کے لاشے ہوئے کتّوں، کووّں چیلوں کے سپرد۔ ہم جب پاکستان پہنچے تو تنگی ترشی میں گذر بسر کرتے بنی۔ بہرحال زندگی پھر سے رواں دواں ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: نریندر مودی کا روسی صدر سے ٹیلی فونک رابطہ، تعلقات مزید گہرے کرنے کا عزم
نیا دور
بی ایس سی کرنے کے بعد یہی کوئی 11سال بعد یہ 1958ء کی بات ہے، میں ”فیلڈ ڈیوٹی“ کے دوران خوردو نوش کا کچھ سامان لینے ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“ پہنچا۔ سرکاری گاڑی ایک جگہ پارک کی، ڈرائیور گاڑی میں بیٹھا رہا۔ میں سڑک کے بائیں طرف چلتے اشیائے ضروریہ کی فہرست کو ازبر کرتے جا رہا تھا کہ تھوڑا آگے سڑک کے دائیں طرف سے آنے والی ایک دوشیزہ نے یک لخت 45ڈگری کا کَٹ مارتے ہوئے 2 بچّوں کی انگلیاں پکڑے اور ایک کو گود میں اُٹھائے میرے سامنے آکر کہا۔
یہ بھی پڑھیں: دہشت گرد احسان اللہ کا فتنہ، الخوارج سے متعلق بیان سامنے آگیا
حیرت کی بات
السّلامُ علیکم! اے گُم گشتہ مسافر میں ہوں ”صبیحہ رُوحی“۔ اُس کو اِس طرح اچانک سامنے پا کر میں گھبرا سا گیا۔ لیکن جلد سنبھلا اور کہا، اوہ! تو آپ ہیں صبیحہ رُوحی …… مزاج گرامی؟
اور یہ…… میرا فقرہ مکمل ہونے سے پہلے کہنے لگی۔ بازار سے کچھ کپڑے تو ضرور خرید کر آ رہی ہوں لیکن یہ میرے ہی اپنے بچّے ہیں، بازار سے خرید کر نہیں لائی۔ 2 لڑکے ایک لڑکی…… میں نے فوراً سوال داغ دیا اور وہ زندگی بھر ساتھ نبھانے کا وعدہ؟ کہنے لگی جب تاریخ جغرافیے کو ہی اُلٹ پلٹ کر دے تو کہاں سے تلاش کرتے ساتھ دینے والوں اور زندگی بھر ساتھ نبھانے والوں کو کسمپرسی کی حالت میں دن گذر رہے تھے والدین نے سر کا بوجھ ہلکا کیا اور پاکستان آنے کے ایک سال بعد ہی رشتۂ ازدواج میں بندھ گئے۔
یہ بھی پڑھیں: یاسین ملک کی جیل میں طبیعت بگڑ گئی
آخر میں
آپ کے میاں کیسے ہیں؟ کیا کام کرتے ہیں؟ ”وہ ایک شریف النفس سکول ٹیچر ہیں۔ مجھے اُنہوں نے بڑا سنبھالا دیا“۔ کہو ”تم تو ابھی تک میری ہی راہ تکتے ہو گے؟“ محترمہ سبھی کے آگے ایک ہی تاریخ تھی اور ایک ہی جغرافیہ…… تعلیم مکمل کی اور 2 سال سے رشتۂ ازدواج میں منسلک…… ایک بھرپُور زندگی گزار رہا ہوں ایک ٹوٹ کر چاہنے والی بیوی اور ایک بیٹا بھی ہے۔(جاری ہے)
نوٹ:
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








