وضع دار اور خاندانی روایات کے حامل شخص
مصنف کا تعارف
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 404
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب میں ایک پاکستانی سمیت 7 افراد کے سرقلم کردیئے گئے
بڑے زمینداروں کی دعوت
رحیم یار خاں میں ایک بار چوہدری جعفر اقبال گوجر آف چیلانوالہ سے ملاقات ان کی خواہش پر ہوئی۔ وہ نواز شریف کی مسلم لیگ کے سرکردہ رہنما تھے اور چوہدری اقبال کے فرزند۔ وضع دار اور خاندانی روایات کے حامل شخص۔ ان کے جدید بنگلے کے سرسبز لانز میں جھومتے پودے اور پھول ان کی شائستگی اور ذوق کے علمبردار تھے۔ ان کی بیٹی حمیدہ سے بھی ملاقات ہوئی، وہ بھی سلجھی ہوئی خاتون تھیں۔ چوہدری جعفر اقبال کے والد چوہدری محمد اقبال گوجر سے بھی میری چند ملاقاتیں اُس وقت رہیں جب وہ ایم این اے تھے اور اے ڈی ایل جی آفس گجرات میٹنگ کے لئے آیا کرتے تھے۔ نواب آ دمی اور بڑے زمیندار تھے۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے پنجاب میں ضمنی انتخابات کا نیا شیڈول جاری کر دیا
پیپلز پارٹی کے ایم پی اے کی دوستی
پیپلز پارٹی کے ایم پی اے چوہدری جاوید حسن گوجر بھی یہاں کے بڑے زمیندار تھے۔ ملک مشتاق حسین سے ان کی پرانی شناسائی تھی۔ انہوں نے مشتاق کی دوستی میں مجھے انتہائی پر تکلف ظہرانے پر مدعو کیا۔ لق و دق صحرا کو انہوں نے دن رات محنت کرکے جنت ارضی میں تبدیل کر دیا تھا۔ وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو دور دراز علاقوں سے آ کر یہاں آباد ہوئے اور اس جلتے ابلتے صحرا میں ہوا کا خوشگوار اور خوشبودار جھو نکا بن گئے۔ ان کا پر تکلف دستر خوان ان کی اعلیٰ میزبانی اور مشتاق سے محبت کا ثبوت تھا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف کے ساتھ سٹاف لیول معاہدہ ہوچکا، وفاقی وزیر خزانہ
نواز کی حیرانی
خورشید صاحب اور نواز بھی میرے ساتھ تھے۔ میں نے نواز کو بھی اپنے ساتھ بیٹھا کر کھانا کھانے کو کہا تو اُس کی حیرانی دیدنی تھی۔ وہ کچھ دیر مبہوت ہی کھڑا گہری سوچ میں ڈوب گیا تھا۔ میں نے دوبارہ کہا؛ "نواز! تم یہیں ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاؤ گے۔ کوئی پریشانی؟" بولا؛ "سر! پریشانی نہیں لیکن آج سے پہلے ایسا کبھی ہوا نہیں تھا۔" میں نے جواب دیا؛ "بیٹا! ہر کام پہلی بار ہی مشکل ہوتا ہے۔"
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں 46 جوا اور فاریکس ایپس پر پابندی عائد
دوبئی کے حکمرانوں کا علاقہ
رحیم یار خاں کے لق و دق صحرا میں "ٹوبھ پنج کوٹی" کے گرد بڑے رقبے پر لگی باربڈ وائیر دراصل دوبئی کے حکمرانوں کے لئے مختص علاقہ ہے جہاں کسی پاکستانی کو جانے کی اجازت نہیں۔ یہ عرب شہزادے یہاں ہر سال شکار کے لئے آتے ہیں اور اپنے من پسند پرندوں کا شکار کرکے، خود کو تازہ دم کرکے میاں منیر کی میزبانی سے لطف اٹھا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ اُن دنوں آئے مہمانوں کا خیال رکھنا میاں منیر کی ذمہ داری ہے جس کے عوض انہیں دولت سے لاد گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ کے مقام پر سیلابی صورتحال، الرٹ جاری، پیشگی انتظامات کی ہدایات
شکار کے دوران کی کہانیاں
ان شہزادوں کی آمد کے دوران ان کے لئے جدید ترین ٹینٹ لگائے جاتے ہیں اور دنیا کی جدید ترین فور بائی فور جیپیں صحرا کی ریت اڑاتی فراٹے بھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ بھی اسی ملک میں ممکن ہے جہاں اغیار کو جاگیریں دی گئی ہیں اور بدلے میں ہمیں شیخ زائد میڈیکل کالج، شیخ زائد ائیر پورٹ اور صحرا میں دوڑتی چند جدید سڑکوں اور میاں منیر کی صورت ملا۔
یہ بھی پڑھیں: دبئی میں 41 بھکاری گرفتار، ان سے کتنے پیسے برآمد ہوئے؟ تہلکہ خیز انکشاف
شیخ زائد کی سخاوت
ایک بار قلعہ اسلام گڑھ جاتے ہوئے اس صحرا اور جنگل میں منگل بنے دوبئی کے حکمرانوں کو عطا کردہ جاگیر کے قریب سے گزر رہا تھا تو مجھے دوبئی کے حکمرانوں کی سخاوت کی کہانیاں میاں حنیف سیکرٹری یونین کونسل اسلام گڑھ نے سنائی تھیں۔ شیخ زائد بن سلطان النہیان جب یہاں آئے تو ایک روز شکار کرتے انہوں نے ایک چولستانی کو اونٹی کا دودھ پلانے کے عوض 50 اونٹوں کے تحفے اور ایک نسان ڈبل کیبن پک اپ سے لاد دیا تھا۔ اپنے میزبانوں کو ایسے قیمتی تحائف دینا عربوں کی روایت ٹھہری ہے۔
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








