گورنر پنجاب سے جے یو پی یوتھ ونگ کے رہنما عثمان سیالوی ایڈووکیٹ کی ملاقات، اہم مطالبات پیش
اہم ملاقات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) جمعیت علماء پاکستان (جے یو پی) یوتھ ونگ کے مرکزی رہنما محمد عثمان سیالوی ایڈووکیٹ نے گورنر ہاؤس لاہور میں گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان سے اہم ملاقات کی۔ ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال، مذہبی معاملات اور عوامی مسائل پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا امریکہ نے ایران پر حملے میں اسرائیل کی مدد کی؟ امریکی صحافی نے بڑا دعویٰ کر دیا
فحاشی پر تشویش
عثمان سیالوی ایڈووکیٹ نے سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی فحاشی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے نئی نسل اور خواتین کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ فحش مواد کے سدباب کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: ورک ویزا پر سعودی عرب جاتے ہوئے 2 افراد کراچی ایئرپورٹ پر گرفتار
قابلِ مذمت اقدامات
رہنما جے یو پی نے گورنر کو آگاہ کیا کہ جے یو پی، سنی تحریک، جماعت اہلسنت اور اے ٹی آئی کے کارکنوں کی گرفتاریاں اور مساجد و مدارس کو تالے لگانا قابلِ مذمت ہے۔ جے یو پی کے صاحبزادہ حسیب نظیری سمیت تمام بے گناہ علماء کو فوری رہا کیا جائے۔ اگر پکڑ دھکڑ بند نہ ہوئی تو (ن) لیگ کے خلاف ملک گیر تحریک چلے گی، جس کے بعد لوگ 2017 کی تحریک بھول کر 2026 کی تحریک کو یاد رکھیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں اس وقت جنگی ماحول ہے، محمود خان اچکزئی
نئی سکیموں اور اصلاحات کی درخواست
عثمان سیالوی نے کہا کہ جے یو پی نے مطالبہ کیا کہ بے نظیر انکم سپورٹ کی طرز پر متوسط طبقے اور بے روزگار طلباء کے لیے نئی سکیمیں لانچ کی جائیں۔ تاجر برادری اور دیہاڑی دار مزدوروں کو ریلیف دیا جائے۔ سکھ کمیونٹی کی طرح عمامہ پہننے والے علماء اور مدارس کے طلباء کو ہیلمٹ سے استثنیٰ دیا جائے۔
گورنر کا ردعمل
گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے تمام تحفظات غور سے سنے اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ ملک کی ترقی میں دینی طبقے کا کردار نمایاں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں اور کسی بھی جماعت کے ساتھ غیر قانونی یا غیر اخلاقی اقدام کی اجازت نہیں دی جائے گی۔








