امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کی ابتدائی منظوری دے دی

امریکی سینیٹ کا وینزویلا کے معاملے پر اقدام

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی سینیٹ نے وینزویلا کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک غیر معمولی دو جماعتی اقدام کرتے ہوئے ان کے فوجی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کی راہ ہموار کر دی ہے۔ یہ اقدام وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کی خفیہ گرفتاری اور امریکی فوجی کارروائیوں پر بڑھتے ہوئے خدشات کے بعد سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا ایپل نئے آئی فون میں انسانی آنکھ جیسا کیمرہ بنانے جا رہا ہے؟

قرارداد کی تفصیلات

اے ایف پی کے مطابق ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں اہم ابتدائی ووٹنگ میں پانچ ری پبلکن سینیٹرز نے بھی حمایت کی۔ قرارداد کے تحت کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر وینزویلا کے خلاف مزید امریکی فوجی کارروائیوں پر پابندی عائد کی جائے گی۔ حتمی ووٹ آئندہ ہفتے متوقع ہے، جسے محض رسمی کارروائی سمجھا جا رہا ہے۔ منظوری کی صورت میں یہ دہائیوں بعد کانگریس کی جانب سے جنگی اختیارات پر سب سے مضبوط مؤقف ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس، پاک بھارت کشیدگی پر غور

علامتی اقدام یا مضبوط مؤقف؟

تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدام زیادہ تر علامتی سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ایوانِ نمائندگان میں اس کی منظوری مشکل ہے اور صدر ٹرمپ کے ممکنہ ویٹو کے بعد اس کے قانون بننے کے امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انسٹاگرام پر دوستی کے ذریعے نوجوان نے 13 سالہ لڑکی کو اپنے جال میں پھنسالیا

مسلح کارروائیاں اور ان کی نوعیت

یہ قرارداد اس وقت سامنے آئی جب امریکا نے وینزویلا میں فضائی اور بحری حملوں کے ساتھ ساتھ دارالحکومت کاراکاس میں رات گئے کارروائی کر کے صدر نکولس مدورو کو گرفتار کیا۔ دونوں جماعتوں کے اراکینِ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں محض قانون نافذ کرنے کی حد سے کہیں آگے جا کر کھلی جنگ کے زمرے میں آتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں کس سیاسی خاندان کی کتنی شوگر ملز ہیں؟ گروک کے جواب نے سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر دیا

ری پبلکن سینیٹر کی رائے

ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال، جو اس قرارداد کے شریک اسپانسر ہیں، نے واضح الفاظ میں کہا: “کسی دوسرے ملک کے دارالحکومت پر بمباری کرنا اور اس کے سربراہ کو ہٹانا سیدھی جنگ ہے۔ آئین صدر کو ایسا اختیار نہیں دیتا۔”

یہ بھی پڑھیں: مدینہ منورہ، ڈیزل ٹینکر اور بس کے تصادم میں 42 افراد جاں بحق

صدر ٹرمپ کا بیان

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکا برسوں تک وینزویلا کا انتظام سنبھال سکتا ہے اور وہاں کے تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کب تک براہِ راست نگرانی رکھے گا، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: ایران کے اسرائیل پر بیلسٹک میزائلوں کے حملے کے مناظر

ڈیموکریٹس کا مؤقف

ڈیموکریٹس اس قرارداد کو آئینی حد بندی قرار دے رہے ہیں اور الزام عائد کر رہے ہیں کہ انتظامیہ نے مہینوں تک گمراہ کن بریفنگز دیں، حتیٰ کہ نومبر تک یہ یقین دہانی کروائی جاتی رہی کہ وینزویلا میں حملوں کا کوئی منصوبہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (ہفتے) کا دن کیسا رہے گا؟

ٹرمپ انتظامیہ کا جواب

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مدورو کے خلاف کارروائی بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ کے خلاف وسیع تر مہم کا حصہ تھی اور اسے دہشت گرد قرار دیے گئے کارٹلز کے خلاف آپریشن بتایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بٹنوں والا 4جی موبائل فون متعارف،قیمت اتنی کم کہ جان کر آپ بھی حیران رہ جائینگے

ری پبلکن قیادت کا دفاع

ری پبلکن قیادت نے مجموعی طور پر صدر کا دفاع کیا ہے۔ اوکلاہوما سے سینیٹر مارک وین مُلن نے کہا: “یہ کام پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا۔ صرف صدر ٹرمپ میں اتنی جرات تھی کہ ایک ملزم اور ناجائز صدر کو نکالا، جو وینزویلا کو یرغمال بنائے بیٹھا تھا۔”

ماضی کی قراردادوں کی صورتحال

واضح رہے کہ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد وینزویلا سے متعلق جنگی اختیارات محدود کرنے کی قراردادیں دو مرتبہ سینیٹ اور دو مرتبہ ایوانِ نمائندگان میں ناکام ہو چکی ہیں۔ گزشتہ ایک صدی میں صرف ایک ہی قانون 1973 کا وار پاورز ریزولوشن ، ایسا رہا ہے جس نے صدر کے یکطرفہ فوجی اختیارات پر مؤثر اور دیرپا قدغن لگائی، جو صدر نکسن کے ویٹو کے باوجود منظور کیا گیا تھا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...