امریکی سینیٹ نے ٹرمپ کے جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کی ابتدائی منظوری دے دی

امریکی سینیٹ کا وینزویلا کے معاملے پر اقدام

واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی سینیٹ نے وینزویلا کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ایک غیر معمولی دو جماعتی اقدام کرتے ہوئے ان کے فوجی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کی راہ ہموار کر دی ہے۔ یہ اقدام وینزویلا کے صدر نکولس مدورو کی خفیہ گرفتاری اور امریکی فوجی کارروائیوں پر بڑھتے ہوئے خدشات کے بعد سامنے آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیالکوٹ: تمام تر کوششوں کے باوجود ٹریفک پولیس وائرل چاچا کے سائز کا ہیلمٹ نہ مہیا کر سکی،DSP مبشر قادر کا ہیلمٹ کے لیے خصوصی ٹیم لاہور روانہ کرنے کا اعلان

قرارداد کی تفصیلات

اے ایف پی کے مطابق ڈیموکریٹس کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے حق میں اہم ابتدائی ووٹنگ میں پانچ ری پبلکن سینیٹرز نے بھی حمایت کی۔ قرارداد کے تحت کانگریس کی واضح منظوری کے بغیر وینزویلا کے خلاف مزید امریکی فوجی کارروائیوں پر پابندی عائد کی جائے گی۔ حتمی ووٹ آئندہ ہفتے متوقع ہے، جسے محض رسمی کارروائی سمجھا جا رہا ہے۔ منظوری کی صورت میں یہ دہائیوں بعد کانگریس کی جانب سے جنگی اختیارات پر سب سے مضبوط مؤقف ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست جھاڑ کھنڈ میں جنگلی ہاتھی کے حملے، 20 افراد ہلاک، ہائی الرٹ جاری

علامتی اقدام یا مضبوط مؤقف؟

تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ اقدام زیادہ تر علامتی سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ ایوانِ نمائندگان میں اس کی منظوری مشکل ہے اور صدر ٹرمپ کے ممکنہ ویٹو کے بعد اس کے قانون بننے کے امکانات تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: علی ظفر کا سیلاب متاثرین کے لیے خصوصی فنڈ ریزنگ کنسرٹ کرنے کا اعلان، کنسرٹ سے حاصل رقم سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے لگائی جائے گی

مسلح کارروائیاں اور ان کی نوعیت

یہ قرارداد اس وقت سامنے آئی جب امریکا نے وینزویلا میں فضائی اور بحری حملوں کے ساتھ ساتھ دارالحکومت کاراکاس میں رات گئے کارروائی کر کے صدر نکولس مدورو کو گرفتار کیا۔ دونوں جماعتوں کے اراکینِ کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں محض قانون نافذ کرنے کی حد سے کہیں آگے جا کر کھلی جنگ کے زمرے میں آتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سوات میں اعلیٰ سطحی اجلاس، منگورہ شہر میں عوام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اہم ہدایات جاری

ری پبلکن سینیٹر کی رائے

ری پبلکن سینیٹر رینڈ پال، جو اس قرارداد کے شریک اسپانسر ہیں، نے واضح الفاظ میں کہا: “کسی دوسرے ملک کے دارالحکومت پر بمباری کرنا اور اس کے سربراہ کو ہٹانا سیدھی جنگ ہے۔ آئین صدر کو ایسا اختیار نہیں دیتا۔”

یہ بھی پڑھیں: ابھی عمران خان کی رہائی ہوتی نظر نہیں آرہی، علیمہ خان

صدر ٹرمپ کا بیان

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکا برسوں تک وینزویلا کا انتظام سنبھال سکتا ہے اور وہاں کے تیل کے ذخائر سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کب تک براہِ راست نگرانی رکھے گا، اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: کالج میں داخلہ بڑا جان جوکھوں کا کام تھا، کوئی سڑک نہ تھی جس پر کوئی بس چلے، ریل گاڑیاں مہاجرین کی آباد کاری میں اب تک مصروفِ کار تھیں

ڈیموکریٹس کا مؤقف

ڈیموکریٹس اس قرارداد کو آئینی حد بندی قرار دے رہے ہیں اور الزام عائد کر رہے ہیں کہ انتظامیہ نے مہینوں تک گمراہ کن بریفنگز دیں، حتیٰ کہ نومبر تک یہ یقین دہانی کروائی جاتی رہی کہ وینزویلا میں حملوں کا کوئی منصوبہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی میں دن اور رات کا درجہ حرارت بڑھنے کا امکان

ٹرمپ انتظامیہ کا جواب

ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ مدورو کے خلاف کارروائی بین الاقوامی منشیات اسمگلنگ کے خلاف وسیع تر مہم کا حصہ تھی اور اسے دہشت گرد قرار دیے گئے کارٹلز کے خلاف آپریشن بتایا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مریم نواز کی تقریر کے دوران ہنگامہ آرائی، سپیکر نے اپوزیشن کے 26 اراکین کو معطل کر دیا

ری پبلکن قیادت کا دفاع

ری پبلکن قیادت نے مجموعی طور پر صدر کا دفاع کیا ہے۔ اوکلاہوما سے سینیٹر مارک وین مُلن نے کہا: “یہ کام پہلے ہی ہو جانا چاہیے تھا۔ صرف صدر ٹرمپ میں اتنی جرات تھی کہ ایک ملزم اور ناجائز صدر کو نکالا، جو وینزویلا کو یرغمال بنائے بیٹھا تھا۔”

ماضی کی قراردادوں کی صورتحال

واضح رہے کہ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد وینزویلا سے متعلق جنگی اختیارات محدود کرنے کی قراردادیں دو مرتبہ سینیٹ اور دو مرتبہ ایوانِ نمائندگان میں ناکام ہو چکی ہیں۔ گزشتہ ایک صدی میں صرف ایک ہی قانون 1973 کا وار پاورز ریزولوشن ، ایسا رہا ہے جس نے صدر کے یکطرفہ فوجی اختیارات پر مؤثر اور دیرپا قدغن لگائی، جو صدر نکسن کے ویٹو کے باوجود منظور کیا گیا تھا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...