اسمارٹ میٹر منصوبے میں 6.5 ارب روپے کی کرپشن، لیسکو، گیپکو، میپکو اور فیسکو نے ایف آئی اے کو ریکارڈ فراہم کر دیا
اسلام آباد میں اسمارٹ میٹر منصوبے کی تحقیقات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) اسمارٹ میٹر منصوبے میں مبینہ طور پر ساڑھے چھ ارب روپے کی کرپشن کے معاملے پر ایف آئی اے کی تحقیقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق لیسکو، گیپکو، میپکو اور فیسکو نے ایف آئی اے کو مطلوبہ ریکارڈ فراہم کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یومِ تکبیر پر تعلیمی اداروں میں چھٹی ہو گی یا نہیں؟ وزیراطلاعات پنجاب کا اہم بیان
غیرقانونی ٹھیکوں کی تحقیقات
نجی ٹی وی سماء کے مطابق ایف آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقات غیرقانونی ٹھیکوں، جعلی دستاویزات اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال کے گرد گھوم رہی ہیں۔ الزام ہے کہ تحلیل شدہ کمپنیوں نے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹینڈرنگ کے عمل میں حصہ لیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک کے متعدد شہروں میں زلزلے کے جھٹکے
ایف آئی اے کی پوچھ گچھ
ایف آئی اے نے لیسکو، گیپکو، میپکو اور فیسکو کے افسران سے تقریباً تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی، جبکہ ہر افسر سے 20، 20 سوالات کے تحریری جوابات بھی حاصل کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: استاد نے نابالغ طالبہ سے زیادتی کی ویڈیو بنالی، متاثرہ کی والدہ کی خود کشی، عدالت نے ٹیچر کو سخت سزا سنادی
ریکارڈ کی ضبطی
ایف آئی اے نے 7 اپریل 2025 کے بعد دیے گئے تمام ٹھیکوں اور ٹینڈرز کا جزوی ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں ٹھیکے دینے کے عمل میں لیسکو کے بعض افسران کی مبینہ ملی بھگت کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
مالی نقصانات کا شک
ذرائع کے مطابق اسمارٹ میٹر منصوبے میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے ذریعے قومی خزانے کو کروڑوں روپے نقصان پہنچانے کا شبہ ہے، جبکہ لیسکو پر نئے اسمارٹ میٹرز کی خریداری میں پیپرا قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں。








