پاکستان سمیت 23 ممالک اور او آئی سی کی اسرائیلی عہدیدار کے صومالی لینڈ کے غیر قانونی دورے کی سخت مذمت
شدید ردعمل کا اظہار
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسرائیلی عہدیدار کے صومالیہ کے خطے صومالی لینڈ کے غیرقانونی دورے پر پاکستان سمیت 23 ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ گیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق 23 ممالک کے وزرائے خارجہ اور او آئی سی نے مشترکہ بیان میں اسرائیلی عہدیدار کے غیر قانونی دورے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مسیحی ملازمین کے لیے دسمبر کی تنخواہیں پیشگی جاری کرنے کا نوٹیفکیشن جاری
صومالیہ کی خودمختاری کی خلاف ورزی
مشترکہ ردعمل میں اسرائیلی عہدیدار کے دورہ صومالیہ کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیاہے۔ 23 ممالک میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، ایران، عراق، الجزائر، بنگلہ دیش، صومالیہ، جبوتی، گیمبیا، انڈونیشیا، اردن، کویت، لیبیا، مالدیپ، نائجیریا، عمان، مصر، فلسطین، قطر، سوڈان، کاموروس، یمن اور او آئی سی کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ ایسوسی ایشن نے دبئی میں میگا میوزیکل نائٹ اور متحدہ عرب امارات کا قومی دن منایا
بین الاقوامی اصولوں کی خلاف ورزی
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ یہ غیر قانونی اقدام بین الاقوامی اصولوں اور اقوامِ متحدہ کے منشور کو کمزور کرتا ہے۔ 23 ممالک اور او آئی سی نے صومالیہ کی خودمختاری اور وحدت کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ وزرائے خارجہ نے کہا کہ صومالیہ میں علیحدگی پسند ایجنڈوں کی حوصلہ افزائی قابل قبول نہیں، ایسے اقدامات خطے میں کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کا احترام
وزرائے خارجہ کا مشترکہ بیان میں کہنا تھا کہ بین الاقوامی قانون کا احترام، خودمختار ریاستوں کے اندرونی امور میں عدم مداخلت لازم ہے، اسرائیل صومالیہ کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرے۔ اسرائیل بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری کرے۔ وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا فیصلہ فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔







