بھارتی اسٹاک مارکیٹ کریش، سرمایہ کاروں کے تقریباً 9 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے
بھارتی اسٹاک مارکیٹ میں مندی
نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی۔ مارکیٹ کو جمعرات کو مسلسل چوتھے روز شدید مندی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کے تقریباً 9 لاکھ کروڑ روپے ڈوب گئے۔ صرف چار تجارتی سیشنز میں بی ایس ای سینسیکس مجموعی طور پر 1,581 پوائنٹس گر چکا ہے جبکہ نفٹی 1.7 فیصد کمی کا شکار ہوا ہے۔ تازہ ترین سیشن میں سینسیکس 780.18 پوائنٹس یا 0.92 فیصد کمی کے بعد 84,180.96 پر بند ہوا، جبکہ نفٹی 50 میں 263.90 پوائنٹس یا ایک فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی اور انڈیکس 25,876.85 پر آ کر بند ہوا۔
یہ بھی پڑھیں: نظام المدارس پاکستان کے زیر اہتمام ڈاکٹر طاہرالقادری کی 5 نئی کتب کی تقریب رونمائی، اہم شخصیات کی شرکت اور خطاب
بازار کے منفی اثرات
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق مسلسل فروخت کے دباؤ نے مارکیٹ کی مجموعی مالیت کو بری طرح متاثر کیا۔ بی ایس ای میں لسٹڈ کمپنیوں کی مجموعی مارکیٹ کیپٹلائزیشن چار دنوں میں 9.19 لاکھ کروڑ روپے کم ہو کر 472 لاکھ کروڑ روپے رہ گئی ہے۔ یہ صورتحال واضح طور پر اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ سرمایہ کار اس وقت شدید غیر یقینی اور خوف کا شکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ جاب پورٹل کا افتتاح، گریڈ 1 سے 5 کی ملازمتوں کا سلسلہ آئندہ 15 روز سے شروع ہو جائے گا: وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ
وجوہات
مارکیٹ میں اس مندی کی بڑی وجوہات میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی خطرات، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سخت تجارتی پالیسیوں کے اشارے اور کمپنیوں کے ملے جلے مالی نتائج شامل ہیں۔ خاص طور پر روس کے خلاف ممکنہ نئی پابندیاں سرمایہ کاروں کے لیے خطرے کی گھنٹی بن گئی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے دو طرفہ امریکی بل کی حمایت کا عندیہ دیا ہے جس کے تحت روسی درآمدات پر کم از کم 500 فیصد تک ٹیرف عائد کیا جا سکتا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ان ممالک پر دباؤ ڈالنا ہے جو اب بھی رعایتی روسی تیل خرید رہے ہیں، جن میں بھارت، چین اور برازیل شامل ہیں۔
مستقبل کی توقعات
اگرچہ یہ بل ابھی قانون سازوں سے منظور نہیں ہوا، تاہم امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے مطابق اسے آئندہ ہفتے ووٹنگ کے لیے پیش کیا جا سکتا ہے۔ اسی خدشے نے بھارتی مارکیٹ میں بے چینی کو مزید بڑھا دیا ہے، کیونکہ روسی تیل پر انحصار کرنے والی بھارتی معیشت پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ سرمایہ کار فی الحال رسک لینے کے موڈ میں نہیں اور یہی وجہ ہے کہ مارکیٹ میں مسلسل فروخت دیکھی جا رہی ہے۔








