ایران میں پُرتشدد مظاہرے بے قابو، 45 افراد ہلاک، انٹرنیٹ سروس معطل
ایران میں جاری مظاہروں کی صورتحال
تہران(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران میں معاشی بحران کے خلاف ملک گیر مظاہروں کا سلسلہ نہ تھم سکا، 28 دسمبر سے جاری مظاہروں میں سکیورٹی اہلکاروں سمیت 45 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب اس سال 12 ملین میٹرک ٹن آلو کی ریکارڈ پیداوار کے لیے تیار ہے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 25 فیصد اضافہ ہے،وزیراعلیٰ مریم نواز
مظاہروں کی وسعت
ایران میں جاری مظاہرے 27 صوبوں تک پھیل چکے ہیں جہاں دکاندار اور دیگر شہری روزانہ کی بنیاد پر مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں، تازہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے اہم شہروں میں ٹائر جلا کر سڑکیں بلاک کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: جمشید دستی کا نااہلی کے بعد ردعمل آ گیا
تشدد اور سکیورٹی اقدامات
ایرانی میڈیا کے مطابق احتجاج کے دوران ہتھیاروں سے لیس شرپسندوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ اور براہ راست فائرنگ بھی کی گئی، پُرتشدد احتجاج کو کنٹرول کرنے اور اسے مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے ملک بھر میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایف سی آئی ٹی نے پروگرامنگ مقابلوں میں شاندار کامیابیوں کے 17 سال مکمل کر لیے
انٹرنیٹ کی بندش
ادھر ایران میں احتجاج کے دوران ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس مکمل طور پر بند کردی گئی ہے۔
انٹرنیٹ مانیٹرنگ گروپ نیٹ بلاکس نے انٹرنیٹ کی بندش کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ انٹرنیٹ بندش کی اصل وجہ کیا ہے تاہم ایرانی حکام ماضی میں بھی مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ معطل کرتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حسین شہید سہروردی کے پہلے دورۂ چین سے دوستی کا آغاز ہوا، چو این لائی نے پاکستان کا جوابی دورہ کیا، اس عشرے کا دوسرا اہم کام اقتصادی منصوبہ بندی تھا۔
احتجاج کی وجوہات
یاد رہے کہ ایران میں گزشتہ 12 روز سے عوام مہنگائی اور کرنسی کی قدر میں شدید گراوٹ کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں اور اس احتجاجی مظاہروں کے دوران درجنوں اموات ہوچکی ہیں۔
امریکی صدر کی دھمکی
امریکی صدر نے ایک انٹرویو کے دوران دھمکی دی ہے کہ اگر احتجاج کے دوران مظاہرین کو قتل کیا گیا تو وہ ایران کو بھرپور اور بہت سخت جواب دیں گے۔








