ٹک ٹاکر رجب بٹ کے وکیل اور کراچی کے وکلا کے درمیان مذاکرات کامیاب
کراچی میں ٹک ٹاکر رجب بٹ کا معاملہ
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) مشہور ٹک ٹاکر رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق اور کراچی کے وکلا کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے اور فریقین نے ایک دوسرے کے خلاف مقدمات اور درخواستیں واپس لینے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: صحافیوں کے خلاف جرائم کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم کا پیغام
مذاکرات کی تفصیلات
کراچی سٹی کورٹ میں بار ایسوسی ایشن کے دفتر میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رجب بٹ کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے کہا کہ ہماری آپس میں تمام معاملات پر تفصیلی گفتگو ہوئی اور درج مقدمات کے محرکات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یاد رکھیے اگر مگر، چاہیے اور کاش یہ سب “موجود لمحے” کو نظرانداز کرنے کے بہانے ہیں، مستقبل میں زندگی نیا رخ اختیار کرے گی.
مسائل کا حل
انہوں نے کہا کہ جس واقعے کی وجہ سے جو حالات پیدا ہوئے اس پر نظر ڈالی گئی، اور تمام مسائل خوش اسلوبی سے حل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، چاہے وہ مسئلہ ایڈووکیٹ ریاض سولنگی کے حوالے سے ہو یا میرے مؤکل کے حوالے سے۔
یہ بھی پڑھیں: مسئلہ کشمیر کا اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل چاہتے ہیں، اسحاق ڈار کا او آئی سی رابطہ گروپ کے اجلاس سے خطاب
شرائط کا عدم اطلاق
رجب بٹ کے وکیل نے بتایا کہ ہم نے ایک دوسرے پر کوئی شرائط لاگو نہیں کی ہیں، اس معاملے کو کامیابی سے طے کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 10 سال سے سندھ بھر میں وکالت کرچکا ہوں، عامر وڑائچ نے اس مسئلے کے حل میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے گریٹر اقبال پارک سے 10 سالہ معذور بچے کے اغوا کی کوشش ناکام، ملزمہ گرفتار
کراچی بار کی ساکھ
صدر کراچی بار ایسوسی ایشن عامر نواز وڑائچ نے کہا کہ اس واقعے سے کراچی بار کی ساکھ متاثر ہوئی، کراچی بار میں ہر قوم، مذہب اور فرقے کی عزت کی جاتی ہے، وکلا مذہبی معاملے پر وکالت کریں خود پارٹی نہ بنیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں مرغی نے نیلے رنگ کا نایاب انڈا دیا
قانون کی بالادستی
انہوں نے کہا کہ قانون کی بالادستی پر کراچی بار یقین رکھتی ہے اس لیے اسے ہدف بنایا گیا، اس واقعے کے ذریعے عوام میں کراچی بار کے وکلا کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی لیکن آج دونوں فریقین کو فری ہینڈ دیا گیا۔ ہماری طرف سے کوئی دباؤ نہیں تھا اور ہم تشدد کو کبھی سپورٹ نہیں کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: کویت نے پاکستان کو بڑی خوشخبری سنادی
وکلا کی عزت اور تعاون
ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ کا کوئی مسئلہ ہے تو بار میں آئیں، وکلا سے گزارش ہے کہ جو سائل کورٹ آئے اس سے عزت دیں۔
ماضی کی تلخی
یاد رہے کہ 29 دسمبر 2025 کو ملزم رجب بٹ اور دو وکلا ریاض سولنگی اور فتح ایڈووکیٹ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی اور پھر بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی تھی، جس پر وکیل صفائی بیرسٹر میاں علی اشفاق نے وکلا کے خلاف سٹی کورٹ تھانے میں مقدمہ درج کروایا تھا اور سندھ بار کونسل میں درخواست دی تھی، جس پر وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کی تھی۔








