کسی قانون کو نہیں مانتا، ہر ملک میں فوجی کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں: ٹرمپ
ٹرمپ کا عالمی فوجی کارروائی کا اختیار
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی کارروائی کا اختیار ان کے پاس ہے، اور ان کی ’اپنی اخلاقیات‘ ہی واحد حد ہے جو انہیں روک سکتی ہے، میں کسی عالمی قانون کو نہیں مانتا۔
یہ بھی پڑھیں: رقم لے کر واپس نہ کرنے کا الزام، عدالت نے اداکارہ نازش کو طلب کر لیا
بین الاقوامی قوانین کی عدم قبولیت
نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے فیصلے بین الاقوامی قوانین سے محدود نہیں ہیں۔ امریکا کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا فیصلہ ہے یہی وہ چیز ہے جو مجھے روکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: علامہ اقبالؒ کا تصورِ خودی جدید سائنس سے ثابت شدہ تجربے کا مرکز ہے: پروفیسر ادریس آزاد
فوجی کارروائیوں کی اہمیت
امریکی صدر نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور اقدامات اور فوجی کارروئیاں امریکا کے عالمی مفادات کے تحفظ میں مددگار ہیں۔ انہوں نے گرین لینڈ اور وینزویلا کے معاملات کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ امریکی طاقت کے استعمال سے وہ عالمی سطح پر اپنے ملک کے مفادات کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: حکومت قومی اسمبلی اجلاس میں کورم پورا کرنے میں ناکام، اجلاس ملتوی
اخلاقیات کا کردار
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کبھی کبھار بین الاقوامی قانون پر عمل ضروری لگتا ہے، لیکن اس کا اطلاق اس بات پر منحصر ہے کہ اس قانون کی تعریف کس طرح کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی فیصلہ اخلاقیات پر منحصر ہونا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں 3 دریاؤں میں سیلاب کے باعث 20 لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور 2200 دیہات سیلاب سے متاثر ہوئے
وینزویلا کے امور میں امریکی مفادات
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سال سے زائد عرصے تک وینزویلا کے معاملات چلانے اور تیل پر قبضہ رکھنے کے عزائم کا اظہار بھی کیا۔
عالمی فوجی آپریشنز پر بحث
یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی آپریشنز اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ عالمی طاقت کے استعمال میں انہیں آزادی حاصل ہے اور وہ صرف اپنی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہیں۔








