کسی قانون کو نہیں مانتا، ہر ملک میں فوجی کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں: ٹرمپ
ٹرمپ کا عالمی فوجی کارروائی کا اختیار
واشنگٹن(ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی کارروائی کا اختیار ان کے پاس ہے، اور ان کی ’اپنی اخلاقیات‘ ہی واحد حد ہے جو انہیں روک سکتی ہے، میں کسی عالمی قانون کو نہیں مانتا۔
یہ بھی پڑھیں: تین دن کی لڑکی سڑک سے اٹھا کر پالی، جوان ہو کر لڑکی نے اپنے 2 بوائے فرینڈز کیساتھ مل کر اُسی ماں کو ہی قتل کردیا۔
بین الاقوامی قوانین کی عدم قبولیت
نیویارک ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ان کے فیصلے بین الاقوامی قوانین سے محدود نہیں ہیں۔ امریکا کی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے وہ کسی بھی ملک میں کارروائی کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ میری اپنی اخلاقیات، میرا اپنا فیصلہ ہے یہی وہ چیز ہے جو مجھے روکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی نظریاتی کونسل نے کم سنی کی شادی کے امتناع کا بل مسترد کردیا
فوجی کارروائیوں کی اہمیت
امریکی صدر نے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ طاقتور اقدامات اور فوجی کارروئیاں امریکا کے عالمی مفادات کے تحفظ میں مددگار ہیں۔ انہوں نے گرین لینڈ اور وینزویلا کے معاملات کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ امریکی طاقت کے استعمال سے وہ عالمی سطح پر اپنے ملک کے مفادات کو مضبوط کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امیتابھ نہ شاہ رخ، بالی وڈ میں سب سے پہلے رولز رائس کس کے پاس تھی؟
اخلاقیات کا کردار
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کبھی کبھار بین الاقوامی قانون پر عمل ضروری لگتا ہے، لیکن اس کا اطلاق اس بات پر منحصر ہے کہ اس قانون کی تعریف کس طرح کی گئی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حقیقی فیصلہ اخلاقیات پر منحصر ہونا چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے سیلاب میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کیلئے ڈرون کا استعمال شروع کر دیا
وینزویلا کے امور میں امریکی مفادات
نیویارک ٹائمز کو انٹرویو میں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک سال سے زائد عرصے تک وینزویلا کے معاملات چلانے اور تیل پر قبضہ رکھنے کے عزائم کا اظہار بھی کیا۔
عالمی فوجی آپریشنز پر بحث
یہ انٹرویو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی آپریشنز اور بین الاقوامی تعلقات کے حوالے سے دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔ ٹرمپ نے واضح کیا کہ عالمی طاقت کے استعمال میں انہیں آزادی حاصل ہے اور وہ صرف اپنی اخلاقیات کو مدنظر رکھتے ہیں۔








