بنگلہ دیش کے ایئر چیف کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ، دو طرفہ فوجی تعاون پر زور
بنگلہ دیش ایئر چیف کا نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کا دورہ
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بنگلہ دیش کے ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی (این ڈی یو) کا دورہ کیا جہاں دوطرفہ فوجی تعاون پر زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جڑانوالہ میں 2026 کا پہلا مقدمہ تھانہ سٹی میں درج کرلیا گیا
ملاقات کا پس منظر
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق اس دورے کے دوران معزز مہمان نے لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار، صدر این ڈی یو سے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نیشنل سیکیورٹی اینڈ وار کورس 2010/11 کے سابق طالب علم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان اکرم راجہ کو جب پی ٹی آئی امیدوار نہیں سمجھا تو پھر کیا ہوا وہ بتائیں، جسٹس جمال مندوخیل
فوجی تعاون پر گفتگو
اس موقع پر فریقین نے عسکری تعاون، بالخصوص پیشہ ورانہ عسکری تعلیم اور مشترکہ تربیت کے شعبوں میں تعاون پر زور دیا اور فوج سے فوج کے روابط کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: طلاق کے بعد زندگی سکون میں آگئی ہے، بریڈ پٹ
تاریخی تعلقات کی عکاسی
یہ دورہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مضبوط تاریخی تعلقات اور دفاعی تعاون و تربیت کو مزید گہرا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بگ بیش لیگ میں بابراعظم کے بعد شاہین شاہ آفریدی کی بھی دھوم مچ گئی
باہمی دلچپسی کے امور پر تبادلۂ خیال
قبل ازیں چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے بنگلہ دیشی ایئر فورس کے چیف آف ایئر سٹاف ایئر چیف مارشل حسن محمود خان نے ملاقات کی۔ باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سلامتی کی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی و عسکری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ تاریخی بلندیوں پر، ایک لاکھ 60 ہزار پوائنٹس کی حد بھی عبور
تربیت اور تعاون کی اہمیت
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق فریقین نے پاک، بنگلہ دیش مسلح افواج کے مابین پیشہ ورانہ تعاون، تربیتی تبادلوں اور دفاعی تعلقات کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔
نیول چیف کے ساتھ ملاقات
علاوہ ازیں نیول چیف ایڈمرل نوید اشرف سے بھی بنگلہ دیش کے ایئر چیف کی ملاقات ہوئی۔ باہمی پیشہ ورانہ دلچسپی کے امور، بدلتے ہوئے علاقائی سکیورٹی منظر نامے پر تبادلۂ خیال کیا گیا، دوطرفہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات کا جائزہ لیا، اور دونوں برادر ممالک کی مسلح افواج کے درمیان تعاون بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔








