ڈیمز فنڈ کیس: پاکستان میں بہت سے کام بغیر آئین و قانون کے ہوجاتے ہیں، چیف جسٹس
چوٹی کے ریمارکس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈیمز فنڈ کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ پاکستان میں بہت سے کام بغیر آئین اور قانون کے ہی ہو جاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور یو اے ای کی دوستی ہمیشہ مثالی رہی ہے، ابراہیم حسن مراد کی یومِ الاتحاد پر مبارکباد
کیس کی سماعت
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز فنڈ سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
یہ بھی پڑھیں: بیٹے کو سیلابی ریلے سے بچاتے ہوئے باپ نے اپنی جان دے دی
عدالت کی معاونت طلبی
عدالت نے ڈیمز فنڈ پرائیویٹ بینکس میں مارک اپ کیلئے رکھنے سے متعلق وفاقی حکومت اور واپڈا سے معاونت طلب کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: 1993ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کو پیپلز پارٹی کے مقابلے میں 11 لاکھ ووٹ زیادہ ملے،کولیشن حکومتوں کیخلاف ملک بھر میں تحریک نجات شروع ہوئی
فنڈز کی رقم کی معلومات
دوران سماعت ایڈیشنل آڈیٹر جنرل نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ ڈیمز فنڈز کی رقم اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سپریم کورٹ کے حکمنامے کے تحت وزیراعظم، چیف جسٹس ڈیمز فنڈز اکاو¿نٹ کھولا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی آرمی چیف نے جنگ کے دوران ایران میں خفیہ کارروائیوں سے متعلق بڑا دعویٰ کر دیا
تعجب کی باتیں
چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اکاونٹ کا عنوان نامناسب ہے اور انہوں نے کہا کہ آئین و قانون کے بجائے عدالتی فیصلوں کو فوقیت نہیں دینی چاہئے۔
یہ بھی پڑھیں: ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (منگل) کا دن کیسا رہے گا ؟
عمل درآمد رپورٹس
واپڈا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے 2018 سے لے کر اب تک 19 عمل درآمد رپورٹس جمع کرائی ہیں۔ چیف جسٹس نے وضاحت کی کہ یہ صرف دیکھا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ فنڈز رکھ سکتی ہے یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایسے شواہد نہیں ملے جن سے لگے کہ حمیرا اصغر کو قتل کیا گیا ہو: ڈی آئی جی ساوتھ
آئینی حمایت کی ضرورت
سابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ ڈیمز فنڈز کے استعمال کے بجائے انہیں مناسب طریقے سے استعمال کیا جانا چاہئے، جس پر چیف جسٹس نے آئینی معاونت کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب ڈینگی بخار میں مبتلا
مارک اپ کی تفصیلات
سٹیٹ بینک کے لیگل ایڈوائزر نے عدالت کو بتایا کہ ڈیمز فنڈ میں اس وقت 23 ارب روپے سے زائد رقم موجود ہے اور چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ مارک اپ کون ادا کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گرل فرینڈ کو سوٹ کیس میں چھپا کر بوائز ہاسٹل سمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی, ویڈیو وائرل
حکومتی انحصار
چیف جسٹس نے حکومتی مارک اپ کا بوجھ اور اس کی حقیقت کی جانب اشارہ کیا، یہ پوچھتے ہوئے کہ کیا سپریم کورٹ ڈیمز فنڈ میں موجود رقم رکھ سکتی ہے۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے ڈیمز فنڈز کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔








