روس کا گزشتہ شب یوکرین پر اوریشنک میزائلوں سے بڑا حملہ، کیف میں کئی گھنٹوں تک زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں
روس کا یوکرین پر فضائی حملہ
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) روس نے گزشتہ رات یوکرین میں مختلف مقامات پر حملہ کیا جس میں متعدد ڈرونز اور میزائلوں کے ساتھ ساتھ اوریشنک (Oreshnik) بیلسٹک میزائل بھی شامل تھے۔ یوکرینی حکام کے مطابق جمعرات کی رات دارالحکومت کیف میں کئی گھنٹوں تک زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں، جس کے نتیجے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: عظمیٰ بخاری نے بشریٰ بی بی کو سلطانہ ڈاکو قرار دے دیا
حملے کی وجوہات
روس کی وزارتِ دفاع نے کہا ہے کہ یہ حملہ دسمبر کے آخر میں یوکرین کی جانب سے مبینہ طور پر روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے کے جواب میں کیا گیا۔ اگرچہ روسی وزارتِ دفاع نے یہ واضح نہیں کیا کہ اوریشنک میزائل کا ہدف کیا تھا، تاہم مقامی وقت کے مطابق آدھی رات سے کچھ پہلے سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں مغربی شہر لویو کے مضافات میں متعدد دھماکے دیکھے جا سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور کے سبزی فروش کے بیٹے کی میٹرک کے امتحانات میں تیسری پوزیشن
میزائل کا استعمال اور اثرات
یہ دوسرا موقع ہے جب ماسکو نے اوریشنک میزائل استعمال کیا ہے۔ اس سے قبل نومبر 2024 میں اس میزائل کے ذریعے یوکرین کے وسطی شہر دنیپرو کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی اور دیگر حکام نے تصدیق کی کہ لویو میں کچھ تنصیبات کو ایک بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنایا گیا، یہ شہر پولینڈ کی سرحد سے تقریباً 60 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔
اوریشنک میزائل کے خصوصیات
اوریشنک ایک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ہے جو ممکنہ طور پر ساڑھے 5 ہزار کلومیٹر دور تک ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس میزائل کا وارہیڈ آخری مرحلے میں کئی حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے جو الگ الگ اہداف پر گرتے ہیں اور وقفے وقفے سے متعدد دھماکوں کا سبب بنتے ہیں۔ یوکرین کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ یورپی یونین اور نیٹو کی سرحد کے قریب اس نوعیت کا حملہ یورپی براعظم کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ ہے۔








