وفاقی حکومت نے مذاکراتی عمل شروع نہ ہونے کا ذمہ دار پی ٹی آئی کو قرار دے دیا
اسلام آباد میں مذاکرات کی خبریں
وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر سپیکر قومی اسمبلی کی سطح پر مذاکرات کا آغاز ہو جائے تو یہ گفتگو مرکزی قیادت کی سطح تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی مذاکرات کے لئے وقت اور جگہ کا تعین کرے، حکومت مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنماؤں کو کلاؤڈ برسٹ کی طرح سزائیں ہوئیں: بیرسٹر گوہر
پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات
طارق فضل چوہدری نے سماء سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات مذاکرات کے آغاز میں رکاوٹ ہیں۔ پی ٹی آئی میں ایک گروپ حکومت کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتا ہے جبکہ دوسرا اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور حکومتی ٹیم نے پی ٹی آئی کی خواہش کا مثبت جواب دیا ہے، اور ہم ان کے ساتھ مذاکرات کے حق میں ہیں۔
مذاکرات کی صورت حال
وزیر پارلیمانی امور نے مزید کہا کہ مذاکرات کے لئے پی ٹی آئی کو وقت اور جگہ کا تعین کرنا ہوگا۔ مذاکرات میں ہمیشہ دو اور دو چار کا فارمولا نہیں ہوتا۔ سپیکر قومی اسمبلی ایک نیوٹرل فورم ہے، اگر مذاکرات شروع ہو جائیں تو ہم مرکزی قیادت کی سطح پر پہنچ سکتے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر کی تقرری نہ ہونا مذاکرات میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔








