چلو اچھا ہوا تم بھول گئے…… کہتے ہوئے اجازت چاہی کہ اُس کے میاں انتظار کر رہے ہوں گے، میں نے بھی نیک خواہشات کیساتھ رخصت کیا
مصنف: ع غ جانباز
قسط: 24
چلو اچھا ہوا تم بھول گئے…… کہتے ہوئے اُس نے اجازت چاہی کہ اُس کے میاں چھُٹی کے بعد سکول کے باہر کھڑے اُس کا انتظار کر رہے ہوں گے۔ میں نے بھی نیک خواہشات کے ساتھ اُنہیں رخصت کیا اور دونوں گھرانوں کیلئے اَمن اور خوشحالی کی دُعا کرتے ہوئے بازار کی جانب چل دیا۔
یہ بھی پڑھیں: اگلی عالمی وبا امریکہ سے شروع ہوگی، یہ کس طرح انسانوں کو متاثر کرسکتی ہے؟ ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی
خطبۂ الہ آباد
قیام پاکستان بہت حد تک اسی خطبے کی روشنی میں عمل میں آیا۔ علاّمہ اقبال ؒ کے اس خطبے میں کئی بار ”نہرو رپورٹ“ کا ذکر آیا ہے۔ یہ رپورٹ پنڈت جَواہر لعل نہرو کے والد موتی لعل نہرو نے مُرتبّ کی تھی کہ تحریک خلافت کے دم توڑ جانے کے بعد، ہندو مسلم اختلافات شدید ہوتے چلے گئے۔ ہندوؤں نے مختلف شہروں میں بلوے کرائے، 1922ء کا ملتان کا تاریخی بلوہ اسی سلسلے کی کڑی تھا۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ برطانوی حکومت ہندوستان میں سیاسی اصلاحات کی قائل ہو چکی تھی۔ مسلمانوں کے ساتھ اب تک یہ ستم روا رکھا گیا کہ اقلیتی صوبوں میں کچھ رعایتیں دے کر انہیں اکثریتی صوبوں میں حقیقی نمائندگی سے محروم کر دیا گیا تھا۔
سیاسی اصلاحات کے مسئلے پر غور کرنے کیلئے سائمن کمیشن کا تقررّ ہوا (1927ء) لیکن اس کمیشن میں کوئی ہندوستانی رکن نہیں تھا، اس لیے ہندو اور مسلمان دونوں نے اس کمیشن کو بہت حد تک رَد کردیا۔
مئی 1928ء کی اسمبلی
مئی 1928ء میں بمبئی میں جو کُل جماعتی کانفرنس منعقد ہوئی تھی، اس کی تجاویز کے مطابق کانگریس کے اجلاس مدراس نے ایک کمیٹی مقرر کی جو بعد میں نہرو (موتی لعل) کمیٹی کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس کمیٹی کو مسٹر جناح کی زیر صدارت مُنعقد ہونے والی کُل جماعتی کانفرنس کی تجاویز، جنہیں مسلم تجاویز کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، غور کرنا تھا۔
مسٹر جناح نے نہرو رپورٹ میں جو ترمیمیں پیش کی تھیں، اُن میں اہم ترمیم یہ تھی کہ مرکزی اسمبلی میں مسلمانوں کو ایک چوتھائی نہیں (جیسا کہ نہرو رپورٹ میں تجویز کیا گیا تھا) بلکہ ایک تہائی نمائندگی دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہماری تعداد کے علاوہ چند دیگر اور اہم امور کو بھی پیش نظر رکھا جائے۔ اسی سلسلے میں قائداعظم کی دوسری اہم تجویز یہ تھی کہ دستور اپنی نوعیت کے اعتبار سے وفاقی ہونا چاہیے، جبکہ نہرو رپورٹ میں جملہ اختیارات صوبوں کی بجائے مرکز کو دئیے گئے تھے۔ اس خاص شق کا مقصد یہ تھا کہ چونکہ اسمبلی میں اکثریت کانگریس (ہندوؤں) کی ہوگی، اس لیے تمام فیصلے انہی کے ہاتھ میں رہیں گے۔
انسداد غلط فہمیاں
اس پر ہندو لیڈر ”جے کر“ نے بہت نفرت انگیز تقریر کی اور کہا کہ ”میں کنونشن کو یاد دلاتا ہوں کہ مولانا ابو الکلام آزاد، ڈاکٹر انصاری (مختار احمد)، سر علی امام اور ڈاکٹر کچلو (سیف الدین) جیسے مسلمان نہرو رپورٹ کی تائید میں ہیں۔ میں کہوں گا کہ مسٹر جناح مسلمانوں کی ایک معمولی تعداد کی نمائندگی کرتے ہیں۔“
قائداعظم نے ”جے کر“ کی تقریر کا مدلل جواب دے کر اسے رد کیا۔ اس کے بعد کانگریس اور مسلم لیگ کے کئی اجلاس در اجلاس ہوئے لیکن اِختلافِ رائے رفع نہ ہوسکا۔ یہ وہ مجموعی صُورتحال تھی جس میں علامہ اقبال نے دسمبر 1930ء میں اپنا خطبہ الہ آباد پیش کیا۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








