بلندی پر آگ پر قابو پانے کے آلات کی شدید کمی پر اداروں کی مجرمانہ غفلت اور ناقص کارکردگی سامنے آ گئی، میڈیا کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔
مصنف کی معلومات
مصنف: رانامیر احمد خاں
قسط: 273
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد یونائیٹڈ کو جھٹکا، اہم کھلاڑی انجری کے باعث ایونٹ سے باہر ہو گئے
عدلیہ میں موجودہ تعیناتی کے طریقہ کار
فیڈرل شریعت کورٹ اور اعلیٰ عدلیہ میں ججوں کی تعیناتی کے موجودہ طریقہ کار میں صوبائی گورنروں اور صدر پاکستان کو جو اختیارات دئیے گئے تھے، ان کی مثال مہذب دنیا کے کسی آئین و قانون میں نہیں ملتی۔ لہذا، آئین کے آرٹیکل 2009، 197، 196، 193، 182، 181، 180 اور آرٹیکل 203-C میں ترامیم کی جائیں اور مذکورہ اختیارات کو ختم کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعلیٰ مریم نواز ترقی کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہیں : رانا مشہود کا حافظ میاں نعمان کے اعزاز میں تقریب سے خطاب
ججوں کی عمر اور تجربے کے معیار کا جائزہ
ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے ججوں میں عمر کے امتیاز اور تفاوت کو ختم کیا جائے۔ عدالت عالیہ اور عدالتی عظمیٰ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال کی جائے۔ وکلاء کی بطور جج تعیناتی کے وقت ان کی عمریں بالترتیب 50 سال اور 55 سال جبکہ تجربہ 10 سال اور 15 سال کی بجائے 20 سال اور 25 سال ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی میں 14 گھنٹوں کی بدترین بجلی کی بندش، کے الیکٹرک کا 70 فیصد حصہ لوڈشیڈنگ فری ہونے کا دعویٰ
بار کے سٹنگ عہدیداران کی تعیناتی
ڈسٹرکٹ بارز، ہائیکورٹ بارز، ٹیکس بارز اور سپریم کورٹ بار کے سٹنگ عہدیداران کو ان کے عہدے کی مدت کے دوران ہائیکورٹ / سپریم کورٹ یا فیڈرل شریعت کا جج نہ بنایا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی آبی جارحیت کے بعد پاکستان نے بجٹ میں آبی وسائل کے لیے کتنی رقم رکھی؟ حیران کن اعدادوشمار منظرعام پر
آتشزدگی کے واقعات کی روک تھام
لاہور ایل ڈی اے پلازہ آتشزدگی کے دوران 3 افراد ساتویں منزل سے چھلانگ لگا کر نیچے گر کر دم توڑ گئے۔ آرمی کے ہیلی کاپٹر نے عمارت کی چھت پر امداد کے طالب 20 سے زائد افراد کو بچا لیا۔ بلندی پر آگ پر قابو پانے کے آلات کی شدید کمی ہونے پر سرکاری اداروں کی مجرمانہ غفلت اور ناقص کارکردگی سامنے آ گئی۔ 8 افراد ہلاک، 28 زخمی ہوئے، قیمتی سامان جل گیا۔ زخمیوں میں ریسکیو اہلکار شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: موٹر وے پر پولیس وین ٹرک سے ٹکرا گئی، 2 اہلکار جاں بحق، 8 زخمی
ہنگامی صورت حال کے انتظامات کی ضرورت
آگ بجھانے اور پلازا میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے شدید مشکلات پیش آئیں۔ اگر ہیلی کاپٹر استعمال نہ ہوتے تو پلازا میں پھنسے افراد کی زندگی کی کوئی ضمانت نہیں تھی۔ ایل ڈی اے پلازا عام عمارت نہیں ہے۔ اس کی تعمیر کے دوران ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے اقدامات کو نظرانداز کیا گیا تھا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام عمارتوں میں ہنگامی صورت حال سے نبٹنے کے انتظامات کا جائزہ لیا جائے اور جو خامی یا کمی ہو دور کرنے کی ممکنہ کوشش کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی تاریخ میں پہلی بار خاتون خفیہ ایجنسی ایم آئی 6 کی سربراہ مقرر
میڈیا کی ذمہ داری
میڈیا کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے جو جان بچانے کی کوشش میں کودنے والوں کو دکھاتا رہا۔ ایسے روح فرسا مناظر دکھانے سے گریز کریں۔ ٹی وی چینل ایسے مناظر دکھانے سے پرہیز کریں، کیونکہ اس سے مرحومین کے لواحقین پر کیا گزرتی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت اور ایک اور سبکی کا سامنا، سیٹلائٹ کا تجربہ ناکام
سرکاری اداروں کی کارکردگی
سرکاری اداروں کی مجرمانہ غفلت سامنے آ گئی۔ نقشہ پاس کرنے والے ادارے کی اپنی عمارت میں آگ پر قابو پانے کا کوئی انتظام نہ تھا۔ آگ کی اطلاع پون گھنٹہ بعد دی گئی۔ فائر بریگیڈ اور ریسکیو 1122 کی کارکردگی کے بڑے دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے۔ ریسکیو سروس والوں کے پاس تو جال تک موجود نہیں تھا جس سے بلندی سے گرنے والے 3 افراد بھی بچائے جا سکتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک سے تنازع، ٹرمپ کی جانب سے خریدی گئی سرخ ٹیسلا کار کا اب کیا ہوگا؟ جانیے
شہریوں کا دکھ اور افسوس
آتشزدگی کے افسوسناک سانحہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر شہریوں کو دلی دکھ ہوا ہے.
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








