کوٹ سبزل جاتا سارا راستہ سر سبز اور کھیتوں سے گزرتا ہے، واپسی پر اس ریسٹورنٹ سے کھانا کھایا جو لذیز کھانوں اور مٹھائی کی وجہ سے مشہور تھا۔
مصنف کی تفصیل
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 405
یہ بھی پڑھیں: ایشیز سیریز سے قبل 2 آسٹریلوی فاسٹ بولرز کو انجری کا سامنا
میاں منیر کا قد کاٹھ
میاں منیر کے قد کاٹھ میں بڑا اضافہ مریم نواز کے سمدھی بننے کے بعد ہوا ہے۔ دونوں خاندانوں کے عروج کی کہانی بھی ایک جیسی ہے۔ ایکٹروں میں پھیلے دبئی کے حکمران خاندان کے محلات اور میاں منیر کے اپنے گیسٹ ہاؤسز ان تمام آرائشوں سے آراستہ ہیں جن کا تصور بھی ممکن نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز آئندہ چند روز میں سنٹر آف ایکسیلینس کا افتتاح کریں گی: وزیر تعلیم پنجاب
قیامت کی دھاڑی مرشد
صادق آباد کا چکر بھی لگ جایا کرتا تھا، وہاں سے پنجاب۔ سندھ کا بارڈر "کوٹ سبزل" کا فاصلہ تقریباً پنتیس(35) کلومیٹر ہے۔ ایک نماز جمعہ لب سڑک چھوٹے سے گاؤں "کوٹ سجاوعلی" کی کچی مسجد میں ادا کرنے کا اتفاق ہوا تھا۔ امام صاحب کا خطبہ میرے لیے تو حیران کن تجربہ تھا۔ فرما رہے تھے؛ "قیامت ڈی دیہاڑہوسی مرشد (مراد امام) ہی ول مریداں ڈی بخشش دا سبب بن سی۔" یہاں مذہب پر کسی سے دانائی یا ان کی سوچ کے برعکس گفتگو خود کے لیے عذاب ہو سکتی ہے کہ پسماندہ انسانوں کا وہی نظریہ ہے جو امام صاحب نے ان کے دلوں میں اتار رکھا ہے۔ مذہبی انتہا پسندی بھی تھی اور پس ماندگی کی انتہا بھی۔
یہ بھی پڑھیں: اب انکم ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے لیے کسی وکیل کی ضرورت نہیں رہے گی، وزیر خزانہ نے بڑا اعلان کردیا
سر سبز راستوں کا سفر
کوٹ سبزل جاتا سارا راستہ سرسبز اور ہرے بھرے کھیتوں سے گزرتا ہے۔ یہ ہریالی آنکھوں کو بہت بھلی لگتی ہے۔ ایک بار صادق آباد میں لاری اڈے کی نیلامی میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی انکوائری کے لیے گیا تھا۔ اس وقت جنرل (آر) عاصم سیلم باجوہ کے بھائی ڈاکٹر طالوت سیلم باجوہ (وہ آم کے بڑے ایکسپورٹر بھی تھے) صادق آباد کے تحصیل ناظم اچھے انسان تھے۔ واپسی پر صادق آباد میں ریسٹورنٹ سے بہت عمدہ اور لذیذ کھانا کھایا تھا۔ یہ ریسٹورنٹ اپنے لذیذ کھانوں اور دودھ میسو مٹھائی کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فنی خرابی، باکو سے بھارت جانے والی غیر ملکی پرواز کی کراچی میں ہنگامی لینڈنگ
وڈیرہ نور محمد کا گاؤں
وڈیرہ نور محمد کا گاؤں "ڈیرہ نور" بھی قریب ہی تھا۔ وڈیرہ سے میرا تعلق ایک ترقیاتی سکیم کے معائنہ کے دوران ہوا جو بعد میں دوستی میں بدل گیا تھا۔ وہ خوشبودار انسان بلا کا میزبان تھا۔ آج بھی اس سے رابطہ ہے۔ وڈیرہ نور محمد کا گاؤں اور رحیم یار خان کے وہ علاقہ جو سندھ کی سرحد کے ساتھ ساتھ ہیں، سندھی کلچر کی واضح جھلک دکھائی دیتی تھی۔ مقامی لوگ سندھی ٹوپی اور اجرک شوق سے پہنتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: آسمان سے گرے کھجور میں اٹکے، آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی شرحوں میں کمی پر اعتراض اٹھا دیا
چاچڑاں شریف
چاچڑاں شریف سرائیکی کے علاوہ چھ دوسری زبانوں کے شاعر، سرائیکی کے شکسپیر خواجہ محمد شریف کے پوتے چاچڑ برادری کے فخر "خواجہ محمد فریدؒ" کی جائے پیدائش ہے۔ کسی دور میں لکڑی کی بڑی منڈی دریائے سندھ سے 3 کلومیٹر کی دوری پر واقع تھی۔ سندھو کی چوڑائی مون سون کے موسم میں بڑھ کر 20/16 کلومیٹر میں بہتے سمندر کی طرح نظر آتی تھی۔ نواب سر محمد صادق خاں پنجم کے والد نواب محمد صادق خاں اول خواجہ فریدؒ کے ہاتھوں بیعت شدہ تھے۔ سر صادق نے اپنے مرشد کے لئے چاچڑاں شریف تک ریلوے لائن بچھوائی جو احمد پور سے یہاں تک لائی گئی تھی۔ خواجہ فریدؒ کے خاندان کے افراد کے مطابق "سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان نے اس ریلوے لائن کو بھی نہیں بخشا اور اپنی فیکٹری میں سریا میں ڈھال دیا تھا۔" بزنس مین یا کاروباری کو صرف اپنا مفاد ہی عزیز ہوتا ہے۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








