کیا ایرانی واقعی ایک اور بادشاہ چاہتے ہیں؟
رضا پہلوی کی عالمی توجہ
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے آخری شاہ محمد رضا پہلوی کے بیٹے رضا پہلوی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ 1979ء کے ایرانی انقلاب کے وقت رضا پہلوی کی عمر محض 16 برس تھی، جب ان کے والد کی 40 سالہ حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور ہزار سالہ بادشاہت کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ اب 65 برس کی عمر میں، تقریباً نصف صدی بعد، وہ خود کو ایران کی موجودہ حکومت کے خلاف تحریک میں ایک نمایاں کردار کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اداکارہ بننے پر رشتہ داروں کا قطع تعلق معمولی بات ہے: نوشین شاہ
احتجاجی مظاہروں کی شدت
سی این این کے مطابق ایران بھر میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران “یہ آخری جنگ ہے، پہلوی واپس آئے گا” جیسے نعرے سنائی دیے۔ بعض مظاہرین نے “بادشاہ زندہ باد” جیسے الفاظ بھی دہراے۔ یہ نعرے ایک ایسے ملک میں لگائے گئے جہاں بادشاہت کی حمایت نہ صرف سماجی طور پر ناپسندیدہ بلکہ قانونی طور پر جرم سمجھی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خواہش ہے خیبرپختونخوا میں تبدیلی پی ٹی آئی کے اندر سے ہی آئے، مولانا فضل الرحمان
عوام کی خواہشات کا سوال
تجزیہ کاروں کے مطابق اصل سوال یہ نہیں کہ یہ نعرے لگے کیوں، بلکہ یہ ہے کہ کیا ایرانی عوام واقعی بادشاہت کی بحالی چاہتے ہیں یا وہ صرف موجودہ سخت گیر مذہبی نظام سے تنگ آ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: تاریخ میں قائداعظم تو ایک ہی پیدا ہوئے، بانی کا کوئی ثانی نہیں ہوتا: سہیل وڑائچ
آرش عزیزی کا تجزیہ
معروف ایرانی نژاد مصنف اور محقق آرش عزیزی کا کہنا ہے کہ رضا پہلوی نے حالیہ برسوں میں اپوزیشن سیاست میں اپنی موجودگی ضرور مضبوط کی ہے اور وہ ایک نمایاں چہرہ بن کر ابھرے ہیں، لیکن وہ کسی طور متفقہ یا متحد کرنے والی شخصیت نہیں ہیں۔ ان کے بقول، پہلوی کے حامی بھی ہیں اور سخت ناقد بھی، جو انہیں ماضی کی آمریت کی علامت سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بارکھان اور ملحقہ علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے
مستقبل کا منظرنامہ
رضا پہلوی خود یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر موجودہ حکومت کا خاتمہ ہوتا ہے تو وہ عبوری دور میں قیادت کے لیے تیار ہیں۔ تاہم ان کے پاس مستقبل کے سیاسی نظام، آئین یا اقتدار کی نوعیت کے حوالے سے واضح منصوبہ موجود نہیں۔ ناقدین کے مطابق یہی ابہام اور عملی سیاسی تجربے کی کمی ان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوالوں کے جواب نہیں دیں گی تو آپ کو میڈیا ٹاک بھی نہیں کرنے دیں گے، صحافی عون شیرازی کی علیمہ خان کو دھمکی
بے چینی کی وجوہات
یہ ایران میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران پانچویں بڑی حکومت مخالف احتجاجی لہر ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عوامی بے چینی گہری ہو چکی ہے۔ لیکن آیا اس بے چینی کا جواب بادشاہت کی واپسی ہے یا کسی نئے جمہوری نظام کی تشکیل، یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے۔
امکان کی حقیقت
رضا پہلوی کا نام سڑکوں پر سنائی ضرور دے رہا ہے، مگر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ایران ایک بار پھر تاج اور تخت کی طرف لوٹنے کے لیے تیار ہے۔ حقیقت زیادہ تلخ ہے، عوام نظام سے بیزار ہیں، مگر متبادل پر اتفاق نہیں۔








