ایران میں حکومت مخالف مظاہرے بے قابو، ہسپتالوں اور مساجد کو نقصان، 217 افراد ہلاک
ایران میں مہنگائی کے خلاف مظاہرے
تہران (ویب ڈیسک) ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری حکومت مخالف مظاہرے پُرتشدد رخ اختیار کرتے ہوئے بے قابو ہوگئے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر آج عمران خان جیل سے باہر آ جائیں تو دنیا ایک ایسا عوامی ردِعمل دیکھے گی جو حالیہ تاریخ میں شاید کسی رہنما کے لیے نہیں دیکھا گیا، حماد اظہر
اموات کی بڑھتی ہوئی تعداد
معروف امریکی جریدے ٹائم میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ مختلف شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران اموات کی تعداد 217 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 40 ہزار روپے والے پرائمیم پرائز بانڈز کی قرعہ اندازی کے نتائج کا اعلان کردیا گیا
احتجاج کی شدت میں اضافہ
رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات سے احتجاج میں مزید شدت دیکھنے میں آئی، جس کے دوران متعدد شہروں میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے مختلف علاقوں میں توڑ پھوڑ کی اور سرکاری و عوامی املاک کو نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: دھونی کی فرنچائز کی مسلسل شکستوں نے بالی ووڈ اداکارہ کو رلا دیا، ویڈیو وائرل
نقصانات اور گرفتاریوں کی تعداد
اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران 26 بینک، 25 مساجد، 2 اسپتال اور 48 فائر ٹرکوں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشنز پر بھی حملے کیے گئے، جس کے نتیجے میں کئی سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق اب تک ڈھائی ہزار افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔
ہلاکتوں کی تصدیق کا معاملہ
ٹائم میگزین کے مطابق تہران کے ایک ڈاکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دارالحکومت کے صرف چھ اسپتالوں میں 217 مظاہرین کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں سے بیشتر افراد گولی لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ تاہم ایرانی حکام نے تاحال ہلاکتوں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔ دوسری جانب واشنگٹن ڈی سی میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ اب تک کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں 49 عام شہری شامل ہیں۔








