ترکیہ نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے میں شمولیت کی کوششیں تیز کردیں
ترکیہ کی شمولیت کی کوششیں
انقرہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) ترکیہ نے سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان دفاعی معاہدے میں شمولیت کی کوششیں تیز کردیں۔
یہ بھی پڑھیں: ۱۹۹۰ء کی دہائی کے آغاز میں پاکستان مسلم لیگ ۳ دھڑوں میں تقسیم ہوتی نظر آتی تھی، حامد ناصر چٹھہ خود کو نواز شریف سے زیادہ بڑا لیڈر سمجھتے تھے۔
معاہدے کی بات چیت کا مرحلہ
بلومبرگ کے مطابق، اس حوالے سے ہونے والی بات چیت آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور معاہدہ طے پانے کے قوی امکانات ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، تینوں بڑے ممالک کے درمیان دفاعی معاہدے سے مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن میں نمایاں تبدیلی آسکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: احتسابی اداروں اور سیاست میں آنے والے پیسے سے متعلق عوام کیا رائے رکھتے ہیں؟ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان این سی پی ایس 2025 کے مزید اہم نکات سامنے آ گئے۔
موجودہ دفاعی معاہدہ
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گزشتہ سال دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ دوسرے پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ ترکی کی شمولیت کی صورت میں یہ اتحاد ایک نئے اسٹریٹجک بلاک کی شکل اختیار کرسکتا ہے۔
اتحاد کی خصوصیات
تجزیہ کاروں کے مطابق، مجوزہ اتحاد میں سعودی عرب مالی طاقت، پاکستان ایٹمی صلاحیت، بیلسٹک میزائل اور افرادی قوت فراہم کرے گا، جبکہ ترکی جدید دفاعی صنعت اور جنگی تجربہ فراہم کرے گا۔ ترکی پاکستان اور سعودی عرب کو پانچویں جنریشل کے کان فائٹر پروگرام میں شامل کرنے کا بھی خواہشمند ہے۔








