نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار
سپریم کورٹ کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے نیشنل بینک میں متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق کیس میں ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک، اقوام متحدہ نے بھارت سے جواب طلب کر لیا
متوفی ملازمین کے بچوں کی درخواستیں
سپریم کورٹ نے نیشنل بینک کے صدر کو تین ماہ میں درخواستوں پر فیصلہ کر کے آگاہ کرنے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: لکی مروت میں پولیس موبائل پرکٹوخیل اڈہ کے قریب دھماکا، ایک اہلکار شہید، 3 زخمی
پالیسی کی وضاحت
سپریم کورٹ نے 2019 اور 2022 میں دی گئی درخواستوں کو اُس وقت کی نافذ پالیسی کے تحت دیکھنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان علاقائی امن اور استحکام کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتا رہے گا، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی
نیازی شکایات کا دور
سپریم کورٹ نے کہا کہ متوفی ملازمین کے بچوں کی درخواستیں برسوں تک زیرِ التوا رہیں، کوئی فیصلہ یا ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ جنرل پوسٹ آفس کیس کا فیصلہ سابقہ پالیسیوں پر ماضی سے لاگو نہیں ہو سکتا۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ: اسرائیلی فوجی محاصرے، 66 بچے غذائی قلت سے جاں بحق
نئے فیصلے کی بنیاد
سپریم کورٹ کے فیصلے اصولاً مستقبل پر لاگو ہوتے ہیں، جب تک عدالت خود نہ ماضی کا ذکر کرے۔
یہ بھی پڑھیں: کمبوڈیا کا ٹرمپ کو نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرنے کا اعلان
منصفانہ انتظامیات کے اصول
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ 2011 کی پالیسی موجودہ درخواستوں کے وقت نافذ تھی، اسی کے مطابق درخواستوں پر فیصلہ ہونا چاہیے۔ متوفی ملازمین کے بچوں کو ملازمت سے متعلق پالیسی پر عمل نہ کرنا منصفانہ انتظامیہ کے اصولوں کے خلاف ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ
سندھ ہائی کورٹ نے متوفی ملازمین کے بچوں کی ملازمت سے متعلق آئینی درخواست جنرل پوسٹ آفس کیس کی روشنی میں مسترد کر دی تھی۔








