مجھے نہیں معلوم کہ ہماری شادی چلے گی یا نہیں، رجب بٹ کی انسٹا پوسٹ وائرل

رجب بٹ کی خاموشی توڑنے کی وجہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ نے سوشل میڈیا پر اپنی شادی اور خاندانی معاملات پر گردش کرنے والی افواہوں اور تنقید کے جواب میں خاموشی توڑ دی ہے۔ انسٹاگرام اسٹوریز پر جاری کردہ بیان میں رجب بٹ نے خاص طور پر اپنے سالے شیخ عون پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ان کے پاس متعدد ریکارڈنگز، اسکرین شاٹس اور چیٹس موجود ہیں جو پوری صورتحال کی وضاحت کرنے کے لیے کافی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: حافظ عبدالکریم مرکزی جمعیت اہل حدیث کے بلا مقابلہ امیر منتخب

تنقید کا سامنا

انہوں نے شیخ عون کی مبینہ چیٹس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ یہ معاملہ سوشل میڈیا پر آئے، مگر موجودہ حالات حد سے تجاوز کر چکے ہیں۔ رجب بٹ نے بتایا کہ گزشتہ مہینوں میں خاندان کے افراد، بشمول والدہ، بہن اور نو ماہ کے بیٹے کیوان، بغیر وجہ الزامات اور تنقید کا سامنا کر چکے ہیں، صرف اس لیے کہ وہ سچ کے ساتھ کھڑے رہے اور خاموش رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میرے قریبی افراد نے کبھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑا، لیکن وہ خاموش رہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران، اسرائیل جنگ: ملک میں ایل پی جی کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ

ان کے سالے پر تنقید

اپنے سالے کی تنقید میں رجب بٹ نے سوال کیا کہ “تمہاری تربیت کیا ہے؟ اپنے ہی خاندان کے افراد کے بارے میں منفی الفاظ استعمال کرنا، فین پیجز سے باتیں کرنا، گروپس بنانا، جھوٹی معلومات پھیلانا اور ہمدردی کا فائدہ اٹھانا کب بند ہوگا؟” انہوں نے زور دیا کہ میری بیوی اور بیٹے کیوان کو ان کے ہمدردی کے کھیل میں شامل نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: 1 مئی سمیت دیگر 5 مقدمات: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی گرفتاری سے روک دیا گیا

کیوان کی دکھائی جانے والی پابندیاں

کیوان کو وی لاگز میں نہ دکھانے کے حوالے سے وضاحت کرتے ہوئے رجب بٹ نے کہا کہ ان کی بیوی نے سختی سے منع کیا تھا کہ بیٹے کا نام یا چہرہ وی لاگز میں استعمال نہ کیا جائے، اور اسی وجہ سے کیوان کا ذکر کبھی وی لاگز میں نہیں آیا۔ اس فیصلے کی وجہ سے بھی انہیں بے وجہ تنقید اور نفرت کا سامنا کرنا پڑا، اور انہوں نے کہا کہ یہ سب اپنے رشتے، شادی اور بیٹے کے تحفظ کے لیے برداشت کیا۔

یہ بھی پڑھیں: بھارت کی جنگی تیاریوں کے مقابلے میں پاکستان کی عسکری تیاریاں جدید ہیں، ترجمان دفتر خارجہ

آخری بار بات کرنے کا فیصلہ

رجب بٹ نے واضح کیا کہ یہ معاملہ اب آخری بار سامنے لایا جا رہا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ پوڈکاسٹ اینکرز اور دیگر افراد کو ذاتی معلومات کون فراہم کر رہا ہے، اور صرف ایمان اور رجب پر تنقید کیوں کی جا رہی ہے؟ ان کے پاس تمام ثبوت موجود ہیں اور انہوں نے لوگوں کو اللہ کے خوف کی تلقین بھی کی۔

یہ بھی پڑھیں: طارق فاطمی کی روسی وزیر خارجہ سے ملاقات، وزیراعظم کا پیوٹن کے لیے خط پہنچایا

شادی کے مستقبل پر سوالات

شادی کے مستقبل کے بارے میں رجب بٹ نے کہا کہ انہیں یقین نہیں کہ یہ رشتہ قائم رہے گا یا نہیں، لیکن اگر رشتہ چلے گا تو صرف اللہ کے حکم سے۔ انہوں نے اپنی بہن کے شوہر اور اس کے خاندان پر سوال اٹھایا کہ ‘بلاتکاری’ جیسے الفاظ استعمال کرنا کیا اخلاقی اور تربیتی معیار ہے؟ واضح رہے کہ اس سے قبل شیخ عون نے ایمان کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندیوں کا ذکر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: قتل کے موقع پر گھر میں موجود ثناء یوسف کی پھوپھو نے کیا دیکھا؟ مقتولہ کے والد کا انکشاف

ذاتی مسائل اور حالات

اس پر رجب بٹ نے کہا تھا کہ یہ ان کا اور ان کی بیوی کا ذاتی معاملہ ہے، اور جب تک ایمان ان کی بیوی ہیں، انہیں کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بلاوجہ شامل نہ کیا جائے، بصورت دیگر رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایمان سے ان کا ذاتی مسئلہ نہیں ہے، اور اگر وہ چاہیں تو معاملہ حل کیا جا سکتا ہے، ورنہ حالات خراب ہو سکتے ہیں۔

شادی کی تفصیلات

یاد رہے کہ رجب بٹ کی شادی دسمبر 2024 میں ہوئی تھی، جس نے سوشل میڈیا پر کافی توجہ حاصل کی تھی۔ کچھ عرصہ قانونی مقدمات کے باعث وہ بیرون ملک مقیم رہے، لیکن حال ہی میں پاکستان واپس آئے ہیں اور مختلف کیسز کا سامنا کر رہے ہیں۔

Categories: تفریح

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...