ٹرمپ انتظامیہ کی ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں پر گہری نظر
ٹرمپ انتظامیہ کی ایران میں احتجاجی مظاہروں پر نظر
واشنگٹن (ڈیلی پاکستان آن لائن) ٹرمپ انتظامیہ ایران میں جاری احتجاجی مظاہروں پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا یہ مظاہرے ایرانی حکومت کے خاتمے کا سبب بن سکتے ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنڈی کی پچ اور دو بڑے پنکھے: یہ ٹیکنالوجی پاکستان سے باہر نہیں جانی چاہیے
مظاہروں کی سنجیدگی
امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق، ایک نام ظاہر نہ کرنے والے سینئر امریکی عہدیدار نے کہا ہے کہ مظاہرے سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور ان کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔ عہدیدار کا کہنا تھا کہ صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا یہ احتجاج کسی بڑے سیاسی موڑ کی طرف جا رہے ہیں یا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اگر امریکہ میں فونز تیار نہیں کیے تو 25 فیصد ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا، ڈونلڈ ٹرمپ نے ایپل کمپنی کو سخت پیغام دے دیا
حالیہ جائزہ
رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے رواں ہفتے کے آغاز میں یہ اندازہ لگایا تھا کہ دسمبر کے آخر میں شروع ہونے والے یہ مظاہرے اس حد تک مضبوط نہیں کہ ایرانی حکومت کو گرا سکیں، تاہم رواں ہفتے کے دوران احتجاج میں تیزی آنے کے بعد اس جائزے پر دوبارہ غور کیا جا رہا ہے۔
احتجاج کی وجوہات
ایران میں دسمبر کے آخر سے احتجاجی لہر جاری ہے، جس کی بنیادی وجہ ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں شدید کمی اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال ہے۔ یہ مظاہرے 28 دسمبر کو تہران کے قریب گرینڈ بازار کے علاقے سے شروع ہوئے اور بعد ازاں ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گئے۔








