خیبرپختونخوا حکومت نے سیاسی دباؤ کے باعث منشیات کے قانون میں ترامیم مؤخر کردیں
خیبرپختونخوا حکومت کی منشیات کے قانون میں ترامیم مؤخر
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)خیبرپختونخوا حکومت نے سیاسی دباؤ کے باعث منشیات کے قانون میں ترامیم مؤخرکردیں۔ مجوزہ ترامیم میں منشیات مقدمے میں سزائے موت کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔ صوبائی کابینہ نے وزیراعلیٰ پر منشیات فروشوں سے مبینہ تعلقات کے غلط الزام کے باعث مجوزہ بل واپس کیا، منشیات ایکٹ میں مجوزہ ترامیم صوبائی کابینہ سے منظوری کیلئے پیش کی گئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: صنفی بنیاد پر تشدد صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی حقوق کا مسئلہ ہے، امریکی قونصلیٹ اور پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کا مباحثہ
محکمہ ایکسائز و نارکوٹکس کنٹرول کی ترمیمی ایکٹ کی تیاری
جیو نیوز کے مطابق محکمہ ایکسائز و نارکوٹکس کنٹرول خیبر پختونخوا نے مجوزہ ترمیمی ایکٹ تیارکیا تھا۔ مجوزہ ترامیم کابینہ کمیٹی اور ذیلی کمیٹی کی متفقہ سفارشات کی روشنی میں کی گئیں، ترامیم کے تحت سزائے موت کو عمرقید کی سزا میں تبدیل کرنےکی تجویز دی گئی تھی۔ موجودہ ایکٹ میں 3 کلوگرام ہیروئن، کوکین اور آئس پکڑے جانے کی سزا موت ہے، مجوزہ بل میں سزائے موت کے بجائے 24 سال اور 40 لاکھ روپےجرمانہ کی سزا تجویز کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ایسوسی ایشن دبئی میں فیوچر فیسٹ ایجوکیشن اینڈ کیریئر ایکسپو کا انعقاد، قونصل جنرل حسین محمد کی بھی شرکت
سزاؤں میں مزید سختی کا امکان
منشیات کے دیگر مقدمات میں گرفتار ملزمان کیلئے بھی سزائیں وجرمانے مزید سخت کیے گئے تھے، محکمہ قانون نے مجوزہ ترمیمی بل کو آئینی و قانونی طور پر درست قرار دیا تھا۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے جیونیوز کو بتایا کہ انہوں نے مجھ پر منشیات فروشوں سے تعلق کا غلط الزام لگایا، اس وقت کسی بھی قانون کو چھیڑنا غلط ہوگا۔
زیرو ٹالرنس پالیسی
ان کا کہنا تھاکہ منشیات کے خلاف صوبائی حکومت کی زیرو ٹالرنس پالیسی ہے، اس پالیسی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، بانی پی ٹی آئی نے بھی زغفران کی کاشت کیلئے کام کیا تھا۔








