او آئی سی نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا نام نہاد اسرائیلی اقدام مسترد کر دیا
او آئی سی کا اسرائیلی اقدام کی مذمت
جدہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) نے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کے نام نہاد اسرائیلی اقدام کو مسترد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہو گیا
صومالیہ کی خود مختاری کا دفاع
صومالی لینڈ تنازع پر او آئی سی وزیر خارجہ کا ہنگامی اجلاس سعودی عرب میں جاری ہے جس سے خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری جنرل او آئی سی نے کہا کہ صومالیہ کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صومالی لینڈ سے متعلق اسرائیلی اقدام عالمی قوانین کی خلاف وزری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری سکولوں کی حالت زار پر ازخودنوٹس کیس؛ سیکرٹری خزانہ کے پی سمیت دیگر ذاتی حیثیت میں طلب
سعودی عرب کا موقف
سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید بن عبدالکریم نے کہا کہ صومالیہ کی خودمختاری کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صومالیہ کی حکومت بات چیت کر کے خطے کے ممالک کو متحد کر سکتی ہے، اور انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکا نے ایران پر مزید پابندیاں لگا دیں
فلسطینی وزیر خارجہ کا بیان
فلسطینی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم صومالیہ کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ سرحدوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اسرائیلی اقدام عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف نے فلسطین یکجہتی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا
صومالی وزیر خارجہ کا ردعمل
صومالی وزیر خارجہ نے کہا کہ صومالیہ کی زمین کسی ملک کو استعمال کرنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ صومالیہ کی سرحدوں کی خلاف ورزی ان کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہے، اور یہ کہ نام نہاد صومالی لینڈ وفاقی صومالیہ کا ایک اہم حصہ ہے۔ اسرائیلی الزامات صومالیہ کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔
ترکیہ کا موقف
نمائندہ ترکیہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کا نام نہاد صومالی لینڈ کو تسلیم کرنے کا اقدام ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم صومالیہ کے اتحاد اور خودمختاری کے لیے اپنی حمایت کو برقرار رکھیے گے۔







