ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت پر اسرائیل میں ہائی الرٹ
اسرائیل کی ہائی الرٹ صورتحال
یروشلم (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت کے پیشِ نظر اسرائیل ہائی الرٹ پر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پمز ہسپتال میں پہلی روبوٹک سرجری کامیابی سے مکمل کر لی گئی
امریکی دھمکیاں اور اسرائیلی تشویش
غیر ملکی خبررساں ایجنسی نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بارہا مداخلت کی دھمکیوں اور ایرانی حکومت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے خبردار کرنے کے بعد اسرائیلی سکیورٹی اداروں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ بات کی وضاحت نہیں ہے کہ ہائی الرٹ کی عملی شکل کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی آمد کے ساتھ کیا خان بھی باہر آئیں گے؟
نیتن یاہو اور مارکو روبیو کی ٹیلیفونک گفتگو
ذرائع نے بتایا کہ ہفتے کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا جس میں ایران میں ممکنہ امریکی مداخلت پر بات چیت کی گئی۔
ایک امریکی عہدیدار نے دونوں رہنماؤں کے درمیان گفتگو کی تصدیق کی تھی تاہم زیرِ بحث آنے والے موضوعات کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: دریا کی خاموشی میں خطرے کی آہٹ اور بزرگ بابا جی
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ ایران آزادی کی طرف دیکھ رہا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں کہا کہ امریکا ایرانی مظاہرین کی مدد کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا سے الگ تھلگ رہنے والے قبیلے سے ملنے کی کوشش پر امریکی یوٹیوبر گرفتار کرلیا گیا
امریکی مداخلت کی وضاحت
اس سے پہلے امریکی صدر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ایران میں اگر لوگوں کو قتل کیا گیا تو امریکا مداخلت کرے گا۔ اس حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ مداخلت کا مطلب ایران میں فوج اتارنا نہیں ہے۔
ایران کی موجودہ صورتحال
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کی صورتِ حال پر نظر ہے، ایسا لگتا ہے کہ ایران کے کچھ شہروں پر لوگ قابض ہیں۔ ایرانی حکومت نے برسوں اپنے عوام کے ساتھ بُرا سلوک کیا اور آج انہیں اپنے کیے کی سزا مل رہی ہے۔








