مقبوضہ جموں وکشمیر کے انتخابات میں بی جے پی کو عبرتناک شکست
بی جے پی کا صفایا
سری نگر (ڈیلی پاکستان آن لائن) مقبوضہ کشمیر میں سرکاری مشینری کے استعمال کے باوجود بی جے پی کا صفایا ہو گیا، کشمیریوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا غرور خاک میں ملا دیا۔
یہ بھی پڑھیں: 26ویں ترمیم قبول تھی، نہ 27 ویں ترمیم قبول کریں گے، حافظ نعیم الرحمان
کانگریس کا انتخابی اتحاد
اپوزیشن جماعت کانگریس کا انتخابی اتحاد اکثریت حاصل کرکے حکومت بنانے کی پوزیشن میں آگیا۔ اس انتخابی اتحاد میں 42 نشستیں فاروق عبداللہ کی جماعت نیشنل کانفرنس کو ملیں، جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کی 90 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو صرف 29 نشستیں ہی حاصل ہوسکیں۔
یہ بھی پڑھیں: مدینہ پہنچے، 3 گھنٹے تک ایئرپورٹ کے لاؤنج نما کمرے میں بسوں کے انتظار میں بیٹھے رہے، سامان کی تلاش میں رات بھر مارے مارے پھرتے رہے۔
کشمیری عوام کا ردعمل
مودی سرکار نے کالے قانون کے تحت مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا جس کو کشمیری عوام نے مسترد کردیا۔ بی جے پی کے حق میں نتائج بدلنے کے لئے پوری ریاستی مشینری کو تعینات کیا گیا اور محکمہ پولیس میں تقرر و تبادلے کئے گئے تھے۔ حالانکہ کشمیریوں نے خصوصی حیثیت کی منسوخی کو مسترد کر دیا اور بی جے پی کو عبرتناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔
ووٹنگ کا بائیکاٹ
کشمیری ووٹرز کی اکثریت نے الیکشن کو ڈھونگ قرار دیتے ہوئے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔








