کے پی میں 497 ادویات کے نمونے غیر معیاری، 226 نمونے جعلی قرار
غیر معیاری اور جعلی ادویات کا انکشاف
پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبر پختونخوا میں 497 ادویات کے نمونے غیر معیاری جبکہ 226 نمونے جعلی قرار دیئے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی سٹاک مارکیٹس میں شدید مندی
ادویات کی جانچ کی رپورٹ
روزنامہ جنگ کے مطابق ڈائریکٹوریٹ جنرل ڈرگ کنٹرول اینڈ فارمیسی سروسز کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں 225 ادویات غیر رجسٹرڈ اور 160 ادویات مس برانڈڈ پائی گئیں، غیر معیاری ادویات میں بیکٹیریل انفیکشن، وائرل انفیکشن، ہارمونل، پین کلرز اور بخار کی ادویات شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر کو ایران پر مزید حملے روکنے کی ڈیموکریٹک قرارداد سینیٹ میں مسترد
کارروائیاں اور قانونی اقدامات
قوانین کی خلاف ورزی پر 66 ادویات ضبط کی گئیں جبکہ 162 میڈیکل سٹورز سیل کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق صوبے بھر میں 16 ہزار 185 میڈیکل سٹورز اور ڈسٹری بیوٹرز کا معائنہ کیا گیا، جس کے دوران 2 ہزار 208 کارروائیاں عمل میں لائی گئیں، اس دوران 12 ہزار 292 ادویات اور میڈیکل ڈیوائسز کے نمونے تجزیے کے لیے حاصل کیے گئے۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ کے مجموعی بجٹ کا تخمینہ 37 کھرب سے زائد ہونے کا امکان، تجاویز سامنے آ گئیں
مقدمات اور سزا
محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق 2 ہزار سے زائد مقدمات اور 51 ایف آئی آرز درج کی گئیں، جبکہ 2 ہزار 447 کیسز پروونشل کوالٹی کنٹرول بورڈ کو بھجوا دیے گئے، اس کے علاوہ 637 مقدمات ڈرگ کورٹ میں چلائے گئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈرگ کورٹ نے 377 کیسز نمٹا کر ایک کروڑ 28 لاکھ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا۔
حکمت عملی اور سسٹمز کی بہتری
چیف ڈرگ انسپکٹر خیبر پختونخوا ڈاکٹر عباس خان کا کہناتھا کہ ڈائریکٹوریٹ جنرل ڈرگ کنٹرول اینڈ فارمیسی سروسز نے مربوط حکمت عملی اپنائی ہے اور مختلف مراحل پر سسٹیمیٹک چیک اینڈ بیلنس کا نظام نافذ کیا گیا ہے۔
ان کے مطابق چیک اینڈ بیلنس کے اس نظام کے ذریعے کئی اہم کیسز تک پہنچنے میں مدد ملی ہے۔








