بیرونِ ملک سے دہشت گردوں کو ایران لایا گیا، جنہوں نے مساجد کو آگ لگائی، لوگوں کو زندہ جلایا اور بعض افراد کے سر قلم کیے، ایرانی صدر
صدر ایران کا احتجاجی مظاہروں پر ردِعمل
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے صدر مسعود پیژشکیان نے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بیرونِ ملک سے دہشت گردوں کو ایران لایا گیا، جنہوں نے مساجد کو آگ لگائی، لوگوں کو زندہ جلایا اور بعض افراد کے سر قلم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: کھیل میں سیاست اور نفرت پھیلانے کا انجام، بھارت پلس 40 ٹی 20 ورلڈکپ کی میزبانی محروم
ایران سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کی حمایت
کلیش رپورٹ کے مطابق صدر پیژشکیان نے کہا کہ ایسے عناصر کا ایران سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق، “اگر کوئی اس ملک سے تعلق رکھتا ہے تو وہ پُرامن احتجاج کرے، ہم اس کی بات سنیں گے اور مسائل حل کریں گے، لیکن بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا اور آگ لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔”
یہ بھی پڑھیں: سندھ طاس معاہدے میں ایک فریق کو اختیار ہی نہیں کہ کوئی تبدیلی کرے: احمر بلال صوفی
عوام سے امن قائم رکھنے کی اپیل
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہر محلے میں جمع ہو کر ہنگامہ آرائی کو روکیں اور امن و امان برقرار رکھنے میں کردار ادا کریں۔ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ وہ درست یا غلط تجزیوں کی بنیاد پر گمراہ نہ ہوں اور دہشت گردوں و فسادیوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا اسرائیل کے فوجی ایندھن کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ
بین الاقوامی سازشیں
صدر پیژشکیان نے امریکہ اور اسرائیل پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ پسِ پردہ ان عناصر کو اُکسا رہے ہیں۔ ان کے بقول، “وہی قوتیں جنہوں نے اس ملک میں ہمارے نوجوانوں اور بچوں کو قتل کیا، آج ان لوگوں کو تباہی پھیلانے کے احکامات دے رہی ہیں، یہ کہہ کر کہ ہم پیچھے کھڑے ہیں، تم آگے بڑھو۔”
یہ بھی پڑھیں: شاہد آفریدی کی شرٹ “وائز مارکٹ” پر بولی لگا کر آپ بھی گھر بیٹھے خرید سکتے ہیں
خاندانوں سے اپیل
انہوں نے خاندانوں سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو فسادی اور دہشت گرد عناصر سے دور رکھیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ حکومت جائز احتجاج سننے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تیار ہے۔
پرامن احتجاج کا حق
آخر میں صدر پیژشکیان نے کہا، “آئیں ہم سب مل بیٹھیں، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بات کریں اور عوامی خدشات کو حل کریں۔ پُرامن احتجاج ہمارا حق ہے، لیکن تشدد اور تباہی ناقابلِ برداشت ہے۔”








