بیرونِ ملک سے دہشت گردوں کو ایران لایا گیا، جنہوں نے مساجد کو آگ لگائی، لوگوں کو زندہ جلایا اور بعض افراد کے سر قلم کیے، ایرانی صدر
صدر ایران کا احتجاجی مظاہروں پر ردِعمل
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن) ایران کے صدر مسعود پیژشکیان نے ملک میں جاری احتجاجی مظاہروں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بیرونِ ملک سے دہشت گردوں کو ایران لایا گیا، جنہوں نے مساجد کو آگ لگائی، لوگوں کو زندہ جلایا اور بعض افراد کے سر قلم کیے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب اور شدید موسم سے ترقیاتی نقصان بڑھ رہا ہے، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثر دنیا کے 10 بڑے ممالک میں شامل ہے، احسن اقبال
ایران سے تعلق رکھنے والے مظاہرین کی حمایت
کلیش رپورٹ کے مطابق صدر پیژشکیان نے کہا کہ ایسے عناصر کا ایران سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق، “اگر کوئی اس ملک سے تعلق رکھتا ہے تو وہ پُرامن احتجاج کرے، ہم اس کی بات سنیں گے اور مسائل حل کریں گے، لیکن بے گناہ لوگوں کو قتل کرنا اور آگ لگانا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔”
یہ بھی پڑھیں: ایران کے ساتھ جاری مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، امریکی وزیر خارجہ
عوام سے امن قائم رکھنے کی اپیل
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ہر محلے میں جمع ہو کر ہنگامہ آرائی کو روکیں اور امن و امان برقرار رکھنے میں کردار ادا کریں۔ نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ وہ درست یا غلط تجزیوں کی بنیاد پر گمراہ نہ ہوں اور دہشت گردوں و فسادیوں کے جھانسے میں نہ آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: جی او آر گیٹ حملہ کیس ؛حماداظہر ،زبیر خان نیازی سمیت 7ملزمان اشتہاری قرار
بین الاقوامی سازشیں
صدر پیژشکیان نے امریکہ اور اسرائیل پر بھی الزام عائد کیا کہ وہ پسِ پردہ ان عناصر کو اُکسا رہے ہیں۔ ان کے بقول، “وہی قوتیں جنہوں نے اس ملک میں ہمارے نوجوانوں اور بچوں کو قتل کیا، آج ان لوگوں کو تباہی پھیلانے کے احکامات دے رہی ہیں، یہ کہہ کر کہ ہم پیچھے کھڑے ہیں، تم آگے بڑھو۔”
یہ بھی پڑھیں: مودی کو خود آنا چاہیے تھا ،پاک بھارت تعلقات کے بارے میں مثبت سوچتا ہوں : نواز شریف
خاندانوں سے اپیل
انہوں نے خاندانوں سے پُرزور اپیل کی کہ وہ اپنے بچوں کو فسادی اور دہشت گرد عناصر سے دور رکھیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ حکومت جائز احتجاج سننے اور عوامی مسائل کے حل کے لیے تیار ہے۔
پرامن احتجاج کا حق
آخر میں صدر پیژشکیان نے کہا، “آئیں ہم سب مل بیٹھیں، ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر بات کریں اور عوامی خدشات کو حل کریں۔ پُرامن احتجاج ہمارا حق ہے، لیکن تشدد اور تباہی ناقابلِ برداشت ہے۔”








