عوام الناس کا امن و سکون غارت ہو کر رہ گیا ہے، طبقاتی نظام تعلیم کی اصلاح کے لیے مسلسل مطالبات کے باوجود کوئی مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے۔
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 274
پریس ریلیز
شائع کردہ روزنامہ "پاکستان" مورخہ - 18 فروری 2011ء لاہور
حکومت کی درخواست
حکومت ریمنڈ ڈیویس کی سفارتی حیثیت کی فوری وضاحت کرے اور ویانا کنونشن کی شق 43 پر عمل کرتے ہوئے استثنیٰ ختم کیا جائے۔
سٹیزن کونسل آف پاکستان کی قرارداد
لاہور (پ ر) سٹیزن کونسل آف پاکستان کے تھنک ٹینک برائے لاء بار اینڈ جویشری کے ایک خصوصی اجلاس میں چند حکومتی حلقوں کی طرف سے امریکی قاتل ریمنڈ ڈیویس کے سفارتی حق استنثیٰ کی حمایت کے بیان پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس کی قرار داد میں بتایا گیا کہ اب تک سامنے آنے والے حقائق کے مطابق سفارتی اہلکار یا ایمبیسی اہلکار کے طور پر ریمنڈ ڈیویس کا نام وزارت خارجہ کے ریکارڈ میں موجود نہیں ہے اور نہ ہی اسے ڈپلومیٹک کارڈ جاری کیا گیا ہے۔
واقعہ کے روز امریکی قونصلیٹ نے جاری کردہ پریس ریلیز میں تصدیق کی کہ ریمنڈ ڈیویس قونصلیٹ کا ملازم نہیں ہے اور قونصلیٹ کے کسی ملازم پر ویانا کنونشن ریگولیشنز کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اگر ریمنڈ سفارتی استثنیٰ کا حقدار بھی ہوتا تو قتل جیسے سنگین جرم پر ڈپلومیٹک اینڈ کونسلرز استحقاق ایکٹ 1972ء کے تحت قانون کے مطابق کارروائی کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ ویانا کنونشن کی شق نمبر 31، 37، 41 اور 43 کی روشنی میں حکومت پاکستان کو حق حاصل ہے کہ وہ قتل جیسے قابل تعزیر جرم کے مرتکب کسی بھی سفارتی اہلکار کا استثنیٰ ختم کرے۔
اجلاس کی صدارت
اجلاس کی صدارت رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ سپریم کورٹ نے کی جبکہ جہانگیر اے جھوجہ ایڈووکیٹ، ظفر علی راجا ایڈووکیٹ، پروفیسر نصیر اے چوہدری، نیک محمد چوہدری ایڈووکیٹ، پروفیسر مشکور صدیقی اور ایڈووکیٹ مس سحرش نیک چوہدری نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر ریمنڈ کی سفارتی حیثیت کی وضاحت کرے اور اگر ریمنڈ کو استثنیٰ حاصل ہے تو ویانا کنونشن کی شق نمبر 43 پر عمل کرتے ہوئے نوٹیفکیشن جاری کر کے اسے حاصل استثنیٰ کو ختم کرنے کا اعلان کرے۔
امن عامہ کے مسائل
لاہور۔ تھنک ٹینک سٹیزن کونسل آف پاکستان کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں اس امر پر غور و فکر کیا گیا کہ پاکستان میں امنِ عامہ کے مسائل، دہشت گردی، شہری اور دیہاتی علاقوں میں ڈاکہ زنی، لوٹ مار اور قبضہ مافیا کی کارروائیوں میں اضافہ در اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ سے عوام الناس کا امن و سکون غارت ہو کر رہ گیا ہے۔ اسی طرح تعلیم کے شعبہ میں تعلیمی معیار کی گراوٹ اور طبقاتی نظام تعلیم کی اصلاح کے لیے مسلسل عوامی مطالبات کے باوجود ہماری حکومتوں کی جانب سے کوئی مؤثر اقدامات نہیں کئے گئے۔ ہماری مرکزی و صوبائی حکومتیں اور محکمہ پولیس و محکمہ تعلیم کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی بجائے اپنے فرائض سے کوتاہی اور چشم پوشی کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








