نواب صادق نے اپنے مرشد کیلئے ”سرائے فرید“ بھی تعمیر کی، اس کی تعمیر میں حصے لینے والے سبھی راج مزدور اور دوسرے کاریگر حافظ قرآن تھے
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 406
حویلی کی تعمیر
نواب صادق نے اپنے مرشد کے لئے ”سرائے فرید“ بھی تعمیر کی۔ یہ شاندار حویلی آج بھی گزرے زمانے کی مرید سے مرشد کی لازوال محبت کی کہانی سناتی ہے۔ اس حویلی کی خاص بات یہ تھی کہ حویلی کے سبھی دروازے ایک ہی سیدھ (لائن) میں ہیں۔
عمارت کی بنیاد لکڑی کے مضبوط شہتیروں پر کھڑی کی گئی تھی۔ اس کی تعمیر میں حصے لینے والے سبھی راج مزدور اور دوسرے کاریگر حافظ قرآن تھے۔
خواجہ فرید کا کمرہ
حویلی کی چھت پر خواجہ فرید ؒ کا کمرہ تھا جہاں وہ اپنی پڑھائی لکھائی کرتے تھے۔ اس کمرے کی چھت سے ارد گرد کا نظارہ دلکش تھا۔ رات کو آکاش کی وسعتوں پر دمکتے ستارے، قریب سے بہتے دریائے سندھ کا جل ترنگ، چاندنی میں ڈوبا ماحول اور کسی پیڑ کے نیچے بیٹھے رانجھے کی بانسری کے مدھر سر سننے والے کو ایسے اپنے سحر میں قید کر لیتے ہوں گے جس کا اندازہ آپ کی سوچ سے بھی بہت دور کی بات ہے۔
تاریخی پس منظر
یہ محل نما حویلی 1312ء میں تعمیر ہوئی جبکہ مسجد اور درس گاہ 1314ء میں۔ درس گاہ میں لائبریری اور زنان خانہ بھی تھا۔ خواجہ فرید ؒ اپنے مرید سے یہ حویلی نہیں بنوانا چاہتے تھے لیکن نواب صاحب کے بے حد اصرار پر راضی ہوئے تھے۔ نواب صاحب بھی کبھی کبھار یہاں تشریف لاتے، اپنا دربار سجاتے اور عدالت لگایا کرتے تھے۔
نواب صاحب نے اپنا بحری جہاز ”انڈس کوئین“ بھی اپنے مرشد کو بطور تحفہ دے دیا جو عرصہ تک مسافروں اور مریدوں کو چاچڑاں شریف سے مٹھن کوٹ لایا لے جایا کرتا تھا۔
مٹھن کوٹ کی کہانی
ایک روایت کے مطابق خواجہ فریدؒ کے خلیفہ ”مٹھن“ کی کوئی اولاد نہ تھی۔ ایک روز مایوسی میں اُس نے مرشد سے کہا؛ ”سرکار! میری تو کوئی اولاد نہیں ہے۔ مرنے کے بعد میرا تو کوئی نام لیوا بھی نہ ہو گا جبکہ میرے مرشد کو تو پورا جہاں جانتا ہے۔“ مرشد نے جواب دیا؛ ”میں کیا، تیرا نام بھی ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔“ اسی خلیفہ کے نام کی مناسبت سے خواجہؒ کی عارضی رہائش ”مٹھن کوٹ“ کہلائی۔ یہیں خواجہ کا انتقال ہوا اور یہیں ان کا مزار ہے۔
مٹھن کوٹ کا قصبہ پاکستان میں ہی نہیں بلکہ جہاں جہاں خواجہؒ کے جاننے والے ہیں، مشہور ہے۔ میں دو بار یہاں اپنے دوست جمشید کریم کے ساتھ آیا تھا۔ خواجہ کے خاندان کے افراد اور ان کے گدی نشین بھی ملا۔ خواجہ فرید ؒ کے زیر استعمال اشیاء خاص طور پر ان کی ٹوپی بھی دیکھی جو ان کا ٹریڈ مارک تھی۔
تحصیل میونسپل ایڈمینسٹریشن کی کارکردگی
اب میری توجہ تحصیل میونسپل ایڈمینسٹریشن (ٹی ایم ایز) کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی تھی۔ یہاں کے مسائل میں ناجائز تجاوزات، کم آمدنی اور نئے ذرائع آمدن میں ناکامی، مویشی منڈیوں کی مناسب نیلامی میں ناکامی، کمرشل جائیدادوں کے مارکیٹ ریٹس سے کم کرائے وغیرہ شامل تھے۔
کرپشن کا ذکر اس لئے نہیں لکھا کہ یہ understood تھی۔ میں کبھی بھی بلدیاتی اداروں کے ساتھ براہ راست منسلک نہیں رہا تھا۔ ان مسائل کی نشاندہی مشکل مرحلہ نہ تھا لیکن اس کا سد باب تبھی کیا جا سکتا تھا جب خود ان اداروں کے ساتھ کام کا براہ راست تجربہ ہو۔
لہٰذا میں نے خالد بھائی، جو عمر بھر انہی اداروں کے ساتھ کام کا وسیع تجربہ رکھتے تھے، کی معاونت کی خواہش کا اظہار کیا۔ وہ خوش دلی سے تیار ہو گئے۔ انہوں نے ہی مجھے لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2001ء کی دفعہ 133 میں دیئے گئے اختیارات کے حوالے سے آگاہ کیا۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں)۔ ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








