کوئی ہمیں حکم نہیں دے سکتا کہ ہمیں کیا کرنا ہے، ٹرمپ کے بیان پر کیوبن صدر کا ردعمل
کیوبا کا جواب
ہوانا (ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکی صدر ٹرمپ کے کیوبا سے متعلق بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کیوبا کے صدر میگوئیل ڈیاز کینیل نے کہا کہ کیوبا ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی ہمیں حکم نہیں دے سکتا کہ ہمیں کیا کرنا ہے، کیوبا حملہ نہیں کرتا، کیوبا تو خود 66 سالوں سے امریکی جارحیت کا شکار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: محکمہ موسمیات کی 12 مئی تک ملک بھر میں آندھی اورگرج چمک کےساتھ بارش کی پیشگوئی
دفاع کی تیاری
کیوبا کے صدر نے کہا کہ کیوبا دھمکیاں نہیں دیتا، وطن کے دفاع کے لیے خود کو تیار رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں جیز (Jazz) کی جانب سے 5G کا آغاز، سوشل میڈیا پر صارفین کے پیغامات
معاشی مشکلات اور امریکہ کی پابندیاں
صدر میگوئیل ڈیاز کینیل نے کہا کہ انسانی جانوں کو بھی کاروباری نظر سے دیکھنے والوں کے پاس کیوبا پر انگلی اٹھانے کا اخلاقی جواز نہیں، جو انقلاب کو کیوبا کی معاشی مشکلات کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں انہیں شرم آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا کی معاشی مشکلات 6 دہائیوں سے جاری امریکی پابندیوں کا نتیجہ ہیں، اب امریکا انہی پابندیوں کو مزید سخت کرنے کی دھمکی دے رہا ہے۔
وزیر خارجہ کا بیان
کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریguez نے کہا کہ کیوبا نے کسی بھی ملک کو دی گئی سیکیورٹی خدمات کا کبھی معاوضہ وصول نہیں کیا۔ کیوبا امریکی بلیک میلنگ یا فوجی جبر کی دھمکیوں میں نہیں آئے گا۔ انہوں نے کہا کہ کیوبا ایندھن برآمد کرنے والے کسی بھی ملک سے ایندھن درآمد کرنے کا حق رکھتا ہے، امریکا کا رویہ مجرمانہ اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔








