مشہور بالی ووڈ اداکار کی قابل اعتراض حالت میں درخت پر چڑھنے کی ویڈیو وائرل
ودیات جموال کی غیر معمولی فٹنس
ممبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بالی ووڈ اداکار ودیوت جموال اپنی غیر معمولی جسمانی فٹنس، سخت ورزش کے معمولات اور اداکاری کی صلاحیتوں کے لیے جانے جاتے ہیں۔ برسوں کے دوران انہوں نے اپنے فن کی وابستگی کے باعث مداحوں کو متاثر کیا ہے۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ اپنے ایکشن مناظر خود انجام دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کی سب سے اونچی بلڈنگ پرل ون کورٹ یارڈ کی رافٹنگ (بنیادیں) تیار کر لی گئیں، یہ پروجیکٹ کب پایاِ تکمیل تک پہنچے گا؟
کلا ری پایتو کی مشق
وہ کلا ری پایتو (یا کالری) کی مشق کرتے ہیں، جو کیرالہ کا قدیم بھارتی مارشل آرٹ ہے۔ یوگا نما اسٹریچز سے لے کر جانوروں کی حرکات تک، یہ فن ذہنی توجہ اور جسمانی طاقت کا حسین امتزاج ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عمرکوٹ ڈسٹرکٹ ہسپتال میں سائیکل کے پمپ سے مریض کو آکسیجن دینے کی ویڈیو وائرل
برہنہ درخت پر چڑھنے کی مشق
ودیوت جموال نے انکشاف کیا ہے کہ وہ سال میں ایک بار (یوگ کی مشق) ’سہج‘ کے تحت برہنہ حالت میں درخت پر چڑھتے اور خود کو برف میں دفن کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے بروقت بندباندھ کر تحصیل فیروزوالہ اور شیخوپورہ میں سینکڑوں جانیں بچا لیں
انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر
اداکار نے ہفتے کے روز اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں انہیں درخت پر چڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، اس مشق کا مقصد فطرت اور باطنی آگہی سے گہرا تعلق قائم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے کیسے ہونگے، آرڈیننس کی کتنی شقوں میں ترمیم کی گئی؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں۔
مداحوں کے لئے حیران کن منظر
ویڈیو میں ودیوت کو مہارت کے ساتھ درخت پر بالکل ٹارزن کی طرح چڑھتے دیکھا جا سکتا ہے، تاہم مداحوں کی توجہ اس بات نے حاصل کی کہ وہ یہ سرگرمی مکمل برہنہ حالت میں انجام دے رہے تھے، حتیٰ کہ زیرجامہ بھی نہیں پہنا ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیلر سوئفٹ نے عملے کو ۱۹ کروڑ ۷۰ لاکھ ڈالر کا بونس دے دیا
یوگا کی مشق 'سہج'
ویڈیو شیئر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل پر لکھا ہے کہ ایک کلا ری پایتو پریکٹیشنر کے طور پر میں سال میں ایک بار یوگ کی مشق سہج میں مشغول ہوتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: کالج طالبہ نے ڈیپارٹمنٹ ہیڈ کی جانب سے ہراساں کیے جانے پر خود کو آگ لگا لی
سائنسی فوائد
انہوں نے مزید لکھا کہ سائنسی طور پر یہ بے شمار نیورو ریسیپٹرز اور پروپریو ریسیپٹرز کو متحرک کرتا ہے، جس سے توازن و ہم آہنگی میں اضافہ ہوتا ہے، اس کے نتیجے میں جسمانی آگہی، ذہنی یکسوئی اور گہرے احساسِ استحکام کا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔
سوشل میڈیا پر ردِعمل
ایک صارف نے لکھا کہ لیکن درخت پر چڑھنے کے لیے ننگا ہونا کیوں ضروری تھا؟
ایک دوسرے صارف نے تبصرہ کیا کہ ٹارزن بھی پتے پہنتا تھا، مگر سر آپ تو واقعی ایک الگ ہی درجے پر ہیں۔
ایک اور کمنٹ میں لکھا گیا کہ سر، آپ کے اندر جو اعتماد ہے وہ سب سے بڑی ترغیب ہے۔
ایک صارف نے کہا کہ میں نے اس منظر کی بالکل بھی توقع نہیں کی تھی۔








