کراچی: اجتماعی شادیوں کی تقریب میں 75 ہندو جوڑے رشتہ ازدواج سے منسلک
اجتماعی شادیوں کی تقریب
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان ہندو کونسل نے کراچی میں اجتماعی شادیوں کی تقریب کا اہتمام کیا جس میں 75 جوڑے ہندو مذہبی رسومات کے مطابق شادی کے بندھن میں بندھ گئے، پنڈت کی موجودگی میں سات پھیروں اور سات وچن کی رسم ادا کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی حملے میں مارے جانے والے ایرانی فوج کے سربراہ محمد باقری کون تھے؟ کس کے بھائی تھے؟
نوجوان جوڑوں کی سہولت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق اجتماعی شادیوں کی تقریب پاکستان ہندو کونسل کی جانب سے ہر سال جنوری میں منعقد کی جاتی ہے۔ اس کا مقصد ہندو برادری کے ان خاندانوں کی مدد کرنا ہے جو مہنگائی کے باعث شادی کے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ اس طرح سندھ بھر سے کم وسائل رکھنے والے نوجوان جوڑوں کو باعزت انداز میں شادی کا موقع ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونا ہزاروں روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4لاکھ 10ہزار سے زائد ہو گئی
دوران تقریب خاص لمحات
تقریب پاکستان ہندو کونسل کے سرپرست اور سیاسی رہنما ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کی کاوشوں کا تسلسل ہے۔ کونسل 18 برس سے اجتماعی شادیوں کا اہتمام کر رہی ہے اور یہ 19ویں تقریب تھی جس میں 75 جوڑے رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کا وفاقی کابینہ میں توسیع کا فیصلہ
بیک وقت تین بہنوں کی شادی
اجتماعی شادیوں کی تقریب میں ایک ہی گھر کی تین بیٹیاں بھی بیک وقت پیا گھر سدھار گئیں۔ اوما، گیتا اور شیلا روایتی عروسی جوڑے زیب تن کیے اپنے اپنے دولہوں کی انتظار میں تھیں، یہ منظر اس تقریب کو دیگر شادیوں سے منفرد بنا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں الیکٹرک کاروں کی اسمبلی شروع، مگر چیلنجز برقرار: سیرس تھری کی تیاری میں مشکلات کی وجوہات کیا ہیں؟
دلچسپ کہانیاں
ان دلہنوں کی تائی نے بتایا کہ موجودہ مہنگائی میں شادی اور جہیز کے اخراجات اٹھانا آسان نہیں رہا، اسی لیے اجتماعی شادیوں کا علم ہوتے ہی تینوں بیٹیوں کے منڈپ ایک ساتھ سجانے کا فیصلہ کیا گیا۔ گیتا کے دولہے آکاش کے مطابق آٹھ برس سے رشتہ طے تھا، ایک سال قبل منگنی ہوئی اور اب وہ دن آ گیا جس کا طویل عرصے سے انتظار تھا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان کے امپائر بسمہ اللہ جان شنواری انتقال کر گئے
شرکت کرنے والے دولہا دلہن
تقریب میں کراچی کے علاوہ سندھ کے مختلف اضلاع سے آئے ہوئے دولہا دلہن بھی شریک تھے۔ سندھ سے تعلق رکھنے والی دلہنوں نے روایت کے مطابق لمبا گھونگھٹ اوڑھ رکھا تھا، جبکہ دولہوں نے موتیوں سے پروئے سہرے ماتھے پر سجا رکھے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: یمن کے حوثیوں کا ایک بار پھر اسرائیل پر حملہ
رسم و رواج کی دھوم
پنڈال میں کہیں شادی کے گیت گونج رہے تھے تو کہیں رقص نے سماں باندھ رکھا تھا۔ کسی منڈپ پر بارات پہنچ چکی تھی تو کہیں باراتیوں کا انتظار تھا۔ پنڈت نے رسومات کا آغاز کیا اور پنڈت کی صدا کے پیچھے دولہا دلہن نے پھیرے لیے۔ دلہن کی مانگ بھری گئی اور دولہا نے دلہن کو منگل سوتر پہنایا، جس کے بعد مالا ایک دوسرے کو پہنا کر رسومات کو حتمی شکل دی گئی۔ آخر میں سات وچن پورے کیے گئے۔
رجسٹریشن اور اہداف
ڈاکٹر رمیش کمار ونکوانی کے مطابق کونسل کی جانب سے رجسٹریشن سے قبل اس بات کی تصدیق کی جاتی ہے کہ تمام دولہا دلہن کی عمر کم از کم 18 سال ہو۔ ہر سال 125 جوڑوں کا ہدف رکھا جاتا ہے، جس کے تحت سندھ بھر کے نوجوانوں کے منڈپ سجائے جاتے ہیں。








