وزیراعلیٰ یا عام رہنما، قومی بیانیے کے مخالف کوئی گفتگو برداشت نہیں کی جائے گی، طلال چوہدری
وفاقی وزیر طلال چوہدری کا قومی بیانیے پر موقف
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ امور سینیٹر طلال چوہدری نے کہا ہے کہ وزیراعلی ہو یا عام رہنما، قومی بیانیے کے مخالف کوئی گفتگو برداشت نہیں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اسلامی نظریاتی کونسل نے 18 سال سے کم عمر شادی کی ممانعت کا بل مسترد کردیا
دہشت گردی کے خلاف سخت موقف
اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، طلال چوہدری نے کہا کہ دہشت گردوں سے اتنی ہمدردی ہے تو افغانستان تشریف لے جائیں۔ آپ سیاسی تحریک 100 دفعہ چلائیں، لیکن قومی مفادات کے خلاف رویہ برداشت نہیں کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں 20 کلو سونا خود برد کرنے کا کیس، عدالت نے گرفتار ملزم کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا
شہداء کی یاد دہانی
انہوں نے کہا کہ ہمارے 1200 سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 60 سے 70 فیصد واقعات خیبرپختونخوا میں ہوئے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ "کتنا خون چاہیے اور کب آپ کی غیرت جاگے گی۔"
یہ بھی پڑھیں: 2 جون کو بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ لیکن تنخواہوں میں کتنا اضافہ متوقع ہے؟ سرکاری ملازمین کیلئے خوشخبری آگئی۔
خیبرپختونخوا حکومت کی ذمہ داریاں
وفاقی وزیر نے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت غیر قانونی افغانیوں کو واپس بھیجنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ اُن کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال دہشت گردی کے سب سے زیادہ واقعات خیبر پختونخوا میں ہوئے ہیں، اور وہاں ایک بھی سیف سٹی نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ پر سندھ میں نیا بحران، اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
افغانستان میں دہشت گردوں کی موجودگی
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی ہے، اور صوبائی حکام غیر قانونی افغانیوں کو واپس نہیں بھیجنے کے حوالے سے بے پروا ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جوابی کارروائی کے کئی آپشن لیکن پاکستان کی کوشش کیا ہوگی؟ الجزیرہ نے تجزیہ پیش کردیا
تحریک انصاف کی پالیسی پر تنقید
وفاقی وزیر نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی کی پالیسی قومی پالیسی پر ابہام پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے دو ہمسائے ایک دہشت گردی کی سپورٹ کر رہے ہیں جبکہ دوسرا سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دینی مدارس کے معاملے پر حکومت کیا چاہتی ہے۔۔۔؟ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے بتا دیا
تحریک انصاف کے عہدیداروں کی سلامتی
اُن کا کہنا تھا کہ 11 سال سے تحریک انصاف کے کسی عہدیدار، وزیر یا مشیر پر حملہ نہیں ہوا، جبکہ خیبر پختونخوا میں دیگر سیاسی جماعتوں پر حملے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مصطفیٰ کمال نے ملک میں نئے صوبوں کے قیام کو ناگزیر قرار دے دیا
دہشت گردوں کی تربیت کے مراکز
طلال چوہدری نے یہ بھی کہا کہ افغانستان سے دہشت گردوں کی تشکیل ہوتی ہے اور وہاں ٹریننگ کیمپس موجود ہیں۔ صوبائی حکومت کہتی ہے کہ وہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: میلبرن میں بابر اعظم کی دوبارہ آمد کا انتظار: سمیع چوہدری کا کالم
قومی بیانیے کی مخالفت
انہوں نے کہا کہ آپ کا ترجمان آج بھی سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہونے کی بات نہیں کرتا، اور جہاں بھی آپ گئے ہیں، قومی بیانیے کے مخالف پوزیشن لی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف لڑائی
وفاقی وزیر نے کہا کہ پی ٹی آئی ہی کے ایک وزیراعلیٰ نے آئی جی کو کہا تھا کہ اگر ہم دہشت گردوں سے لڑے تو پیپلز پارٹی اور اے این پی بن جائیں گے۔








