چین نے ایرانی مظاہروں کے ردعمل میں امریکہ کے ایران پر ممکنہ حملے کی مخالفت کردی
چین کی امریکی حملے کی مخالفت
بیجنگ(ڈیلی پاکستان آن لائن) چین نے ایرانی مظاہروں کے ردعمل میں امریکہ کے ایران پر ممکنہ حملے کی مخالفت کر دی۔ ترجمان چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ چین ہمیشہ ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور بین الاقوامی تعلقات میں طاقت کے استعمال کی مخالفت کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: متحدہ عرب امارات نے بھی افغان باشندوں کو واپس بھیجنا شروع کردیا
عالمی قوانین کی اہمیت
بیان میں کہا گیا کہ عالمی قوانین کے تحت ملکی خود مختاری اور سب کی سلامتی کا تحفظ کیا جانا چاہیے۔ امید ہے کہ ایرانی حکومت اور عوام موجودہ مشکل صورتحال پر قابو پاسکتے ہیں اور ملکی استحکام برقرار رکھ سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کراچی کے علاقے صدر میں واقع النجیبی موبائل مارکیٹ میں اچانک آگ لگ گئی
جرمن چانسلر کا بیان
اس کے علاوہ جرمن چانسلر نے کہا کہ ایران میں جاری تشدد ختم ہونا چاہئے، یہ طاقت کی نہیں، کمزوری کی علامت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایشیا کپ رائزنگ سٹارز فائنل، پاکستان شاہینز اور بنگلہ دیش اے کا سنسنی خیز مقابلہ برابرہو گیا
ٹرمپ کا موقف
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں جس میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔ صدر ٹرمپ نے فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے طیارے میں گفتگو میں کہا کہ ایرانی اپوزیشن لیڈروں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔
ایران کے ساتھ مذاکرات کی ممکنہ پیشکش
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نے گزشتہ روز جوہری معاہدے پر بات کرنے کے لیے رابطہ کیا، ہم ان سے مل سکتے ہیں۔ ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہے ہیں جس میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔








