مولانا حسرت موہانی نے مولانا عبد الکلام آزاد کو کھری کھری سنائیں،مولانا جب تک زندہ رہے بھارت کی اسمبلی میں اختلافی آواز بلند کرتے رہے
مصنف کا تعارف
مصنف: ع غ جانباز
یہ بھی پڑھیں: اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو اسرائیل کو نتائج بھگتنا ہوں گے، برطانیہ کی سخت وارننگ
مولانا حسرت موہانی اور ان کے خیالات
مولانا حسرت موہانی نے مولانا عبد الکلام آزاد کو کھری کھری سنائیں اور مزید بتایا کہ سر سیّد احمد خاں نے 1857ء میں برٹش گورنمنٹ کی بد گمانیاں دور کرنے کے لیے مسلمانوں کو صرف تعلیمی اور سماجی شعبوں پر زور دینے کی تلقین کی تھی۔ بالکل اسی طرح 1947ء میں آپ کانگریس کے ساتھ مسلمانوں کی بلا شرط وفاداری سکھاتے رہے۔
مولانا جب تک زندہ رہے بھارت کی اسمبلی میں اختلافی آواز بلند کرتے رہے۔ وہ واحد پارلیمانی لیڈر تھے جنہوں نے بھارت کے آئین پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اپنی زندگی میں آخری بار فریضۂ حج ادا کرنے کے بعد براستہ کراچی دہلی روانہ ہوئے تھے۔ کراچی میں قائداعظم کے مزار پر فاتحہ خوانی کی تھی۔ 13 مئی 1951ء کو وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ کاش ہماری آج کی سیاست کے خواجگان زر پرست اُن کی شخصیت و کردار سے سبق اندوز ہونے کے لیے تھوڑا وقت نکال سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاراچنار میں شٹر ڈاون ہڑتال، شہر جانے والی واحد سڑک کھولنے کا مطالبہ
برّصغیر کی تقسیم
”برطانیہ کے وزارتی مشن“ کی تجاویز میں نہ تو کانگریس کا یہ مطالبہ تسلیم کیا گیا تھا کہ ہندوستان بلا شرکتِ غیرے ہندوؤں کا ہے اور ہندوستان کی حکومت کانگریس کو سونپی جائے اور نہ مسلمانوں کا یہ مطالبہ مانا گیا تھا کہ مسلمانوں کو اُن کی اکثریت پر مشتمل علاقے دے دئیے جائیں اور یہ اُن کا اپنا ایک علیٰحدہ ملک ہو۔ چونکہ اِن تجاویز کے مان لینے سے کانگریس کے مرکز میں اختیارات محدود ہوجاتے تھے اس لیے کانگریس نے ان تجاویز کو قبول نہ کیا۔
یہ صورتِ حال دیکھ کر مسلم لیگ نے دوبارہ پاکستان کا مطالبہ کیا اور احتجاج کا آغاز کردیا۔ اب حالات نے نیا رُخ اختیار کرلیا۔ جب الیکشن کے نتیجے میں انگریز نے مرکز میں کانگریس کی وزارت پنڈت نہرو کی قیادت میں بنا دی تو اُن کی اکثریت کی وجہ سے صوبہ سرحد میں بھی کانگریس کی وزارت بن گئی۔ باقی صوبوں میں مسلم لیگ اکثریت سے جیتی تھی۔ اِس طرح سندھ میں مسلم لیگ کی وزارت بن گئی۔
مسلم لیگ صوبہ پنجاب میں بھی اکثریت سے جیتی تھی لیکن یہاں ”یُونینسٹ“ کانگریس کے پٹھو تھے۔ ہندوؤں اور سکھوں نے بھی اُن کی مدد کی اور گورنر ”خضر حیات خاں ٹوانہ“ جس کی چند سیٹیں تھیں، کو وزارت بنانے کی دعوت دے ڈالی۔ اب پنجاب میں اِس حکومت کے خلاف تحریک شروع ہوئی تو خضر حیات خاں ٹوانہ کی وزارت جاتی رہی۔ گورنر نے مسلم لیگ کو حکومت بنانے کی دعوت دی۔ اِس طرح حالات نے ایک اور کروٹ لی اور صوبہ سرحد میں کانگریس کو اپنی حالت پتلی لگنے لگی۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میٹروپولیٹن کارپوریشن نے اپنے عملے کے لیے نئی وردی متعارف کرا دی
1947ء کی سیاسی صورتحال
1947ء کے انتخابات کے نتیجہ میں پنجاب میں مسلم لیگ کی وزارت بننے سے پورے پنجاب کو پاکستان میں شامل ہونے کا پیغام ملا۔ اِس اثر کو کم کرنے کے لیے کانگریس نے تارا سنگھ کو بلایا۔ اُسے شیشے میں اُتارا اور اُس کی زبانی یہ پیغام دیا کہ ہندو اور سکھ پنجاب میں مسلمانوں کا اقتدار قبول نہیں کریں گے۔ اُس نے نہایت ہی شر انگیز تقاریر کے ذریعے ہر طرف اِک آگ سی بھڑکا دی۔ ہندو اور سِکھ پریس بھی اِس جلتی میں اپنا حصّہ ڈالتا رہا۔
ماسٹر تارا سنگھ کو ہندو اور سِکھ محاذ کا لیڈر بنا دیا گیا اور اُس نے اپنی تقریر میں پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر ننگی تلوار لہرا کر مسلمانوں کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








