امید تھی کہ شکنجے میں آتے ہی ان کا قبلہ درست ہو جائے گا، رپورٹ رات کو دیکھ لی تھی، بے چارے کو آتا جاتا کچھ نہیں تھا، آئیں بائیں شائیں مارتا رہا۔
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 407
یہ بھی پڑھیں: فخر زمان بیمار ہیں ، کپتان محمد رضوان
کمشنر بہاول پور کا تقدیر بدلنے والا فیصلہ
یوں اس دفعہ میں دیئے گئے اختیارات کے تحت کمشنر بہاول پور نے مجھے پورے ڈویثرن کے بلدیاتی حکومتوں کا inspecting officer نامزد کر دیا۔ پنجاب بھر میں اس عہدے پر نامزد ہونے والا میں پہلا اور واحد افسر تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ماہرہ خان دوسری شادی کے بارے میں بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں
ملاقات کا پہلا تاثر
تحصیل ایڈ منسٹریشن افسر بہاول عطا اللہ واہلہ (ان کی بیگم میری برادری، یعنی ککے زئی تھیں) جب بھی ملاقات کے لئے آتا تو ان کے رویہ میں مغروری کی جھلک ہوتی تھی۔ جب میرا inspecting officer کا notification جاری ہوا، اگلے روز وہ آگیا۔ اس روز اس کا انداز بڑا عاجزانہ تھا۔ کہنے لگے؛؛ “سر! جناب میری برادری سے ہیں۔ کوئی حکم ہو تو بندہ حاضر ہے۔ میں آپ کا بھائی ہوں۔” میں مسکرا دیا۔ انہیں چائے کا کپ پیش کیا اور کہا؛ “آج سے بہت سے افسر میری ہی برادری کے ہی ہیں۔” میری طنزیہ بات اس کی سمجھ میں آ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کا گندم کوٹہ سے متعلق کیس میں اہم حکم
انسپکشن پروفارما کی تیاری
میں نے خورشید صاحب سے مل کر انسپکشن کا پروفارما تیار کیا۔ خالد بھائی سے مشورہ کیا اور ان کی بتائی گئی چند ترامیم شامل کیں، اب یہ ایک عمدہ دستاویز تھی۔ کمشنر سے منظوری لی اور یہ فیصلہ ہوا کہ ہر ہفتہ کے مخصوص دن دو ٹی ایم ایز کو بلایا جائے گا اور وہ اس انسپکشن پروفارما پر کمشنر کو بریفنگ دیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب کا آئندہ مالی سال کا بجٹ مکمل طور پر ٹیکس فری ہوگا: عظمیٰ بخاری
انسپکشن کے اہم پہلو
تین چیزوں پر ہماری توجہ مرکوز تھی؛ پہلی؛ ملازمین کی حاضری اور جنرل ڈسپلن پر۔ دوسری؛ بجٹ اور ذرائع آمدن۔ تیسری؛ ناجائز تجازات اور ٹی ایم ایز کی غیر منقولہ جائیداد۔ یہ کئی صفحات پر مشتمل اس انسپکشن پروفارما کے چار حصے تھے۔
پہلا حصہ
اس میں افسران کا تعارف اور ان کی تعلیمی قابلیت اور پچھلے پانچ سال کی پوسٹنگ کی تفصیل تھی۔
دوسرا حصہ
انتظامی امور، ڈسپلین کیسز، ناجائز تجاوزات،
تیسرا حصہ
بجٹ اور دیگر فنانشل مسائل، ٹی ایم اے کی پراپرٹی وغیرہ،
چوتھا حصہ
ترقیاتی منصوبوں کی تفصیل اور بلڈنگ کنٹرول وغیرہ شامل تھے۔ دوران بریفنگ کمشنر کی توجہ اوپر دی گئی باتوں پر ہی مرکوز رہنی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: پراگ نے آئی پی ایل میں لگاتار 6 بالز پر چھکے لگا دیئے
انسپکشن کا آغاز
یہ انسپکشن پروفارما اور انسپکشن شیڈول تمام متعلقہ دفاتر کو بھیجا گیا کہ ایک ہفتے میں پر کرکے واپس بھیجا جائے۔ دی گئی معلومات پر خورشید صاحب اور مجھے انسپکشن کرنی تھی۔ یہ وہ جال تھا جس میں ٹی ایم ایز کو اب پھنسنا اور اپنی کارکردگی کو بہتر بنانا تھا۔ اب آئیں بائیں شائیں کرنے کا وقت گزر گیا تھا۔ میں پر امید تھا کہ اس شکنجے میں آتے ہی ان کا قبلہ درست ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: آل پاکستان لائرز ایکشن کمیٹی نے ملک بھر کے وکلاء سے آئینی عدالت کے بائیکاٹ کا مطالبہ کردیا
پہلی بریفنگ کا تجربہ
ٹی ایم اے کی اپنی بھیجی گئی معلومات پر معائنہ کیا جاتا، اس کی رپورٹ کمشنر کے علاوہ متعلقہ ڈی سی او اور ایڈمنسٹراٹر کو بھی بھیجی جاتی تھی۔ اس رپورٹ کی روشنی میں متعلقہ ٹی ایم او کمشنر آفس تفصیلی بریفنگ دیتا۔ ایڈمنسٹریٹر کے علاوہ سبھی افسران حاضر ہوتے۔ پہلی بریفنگ ٹی ایم اے بہاول پور کی تھی۔ اشتیاق احمد اے ڈی سی بہاول پور ایڈ منسٹریٹر تھے۔ تعارف کے بعد میں نے بتایا کہ “سر! ٹی ایم ایز کے معاملات کو بہتر کرنے کے لئے ہم نے انسپکشن کا سلسلہ آپ کی منظوری سے شروع کیا تھا۔ یہ پنجاب میں پہلا موقع ہے کہ اس قسم کی کوشش سے ہم ٹی ایم اے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے قدم اٹھا رہے ہیں۔ ہمارا فوکس آپ کے ویثرن کے مطابق ناجائز تجاوزات، آمدن میں اضافہ اور بلڈنگ کنٹرول ہے۔”
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 9 دہشتگرد ہلاک
کمشنر کا رد عمل
میری بات ختم ہوئی تو کمشنر نے کہا؛ “آپ کی رپورٹ میں نے کل رات کو دیکھ لی تھی۔ اچھی کوشش ہے”۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا؛ “جی ٹی ایم او صاحب شروع کریں۔” اس بے چارے کو آتا جاتا کچھ نہیں تھا۔ آئیں بائیں شائیں مارتا رہا۔ کمشنر کا پارہ لبریز ہو گیا۔
اختتام
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








