پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان 40 جے ایف-17 طیاروں اور ڈرونز کی فروخت پر مذاکرات جاری: رائٹرز کا دعویٰ
پاکستان کی انڈونیشیا کو دفاعی ساز و سامان کی فروخت کی تجویز
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان انڈونیشیا کو جے ایف7 اور ڈرونز فروخت کرنے پر غور کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ریاض میں عالمی دفاعی نمائش، 80 ممالک شریک، بھارت کو ناکوں چنے چبوانے والے پاکستان کے فتح 2 سمیت دیگر میزائل بھی موجود
ملاقات کی تفصیلات
رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں انڈونیشیا کے وزیرِ دفاع سجافری سجامسو الدین اور پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کے درمیان ملاقات ہوئی، جس میں انڈونیشیا کو پاکستانی ساختہ جنگی طیاروں اور ڈرونز کی فروخت پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا احتجاج اور شدیدنعرے بازی
ممکنہ دفاعی معاہدہ
رائٹرز نے دعویٰ کیا ہے کہ باخبر سیکیورٹی ذرائع کے مطابق بات چیت ایک ممکنہ دفاعی معاہدے کے گرد گھومتی رہی، جس میں جے ایف7 تھنڈر لڑاکا طیارے اور لڑاکا ڈرونز شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ اور بھارت کے تعلقات بدترین مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں: امریکی جریدے کا تہلکہ خیز انکشاف
مذاکرات کی پیش رفت
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مذاکرات ایک اعلیٰ مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں اور اس میں 40 سے زائد جے ایف7 طیاروں کی فروخت زیرِ غور ہے، جب کہ انڈونیشیا نے پاکستان کے شاہپر ڈرونز میں بھی گہری دلچسپی ظاہر کی ہے۔ تاہم ممکنہ معاہدے کی مدت اور ترسیل کے شیڈول پر تاحال کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
یہ بھی پڑھیں: جشنِ وسیب:محکمہ اطلاعات و ثقافت پنجاب کی جانب سے ملتان میں ثقافتی جشن کا شاندار انعقاد
فریقین کی جانب سے تصدیق
انڈونیشیا کی وزارتِ دفاع اور پاک فوج دونوں نے ملاقات کی تصدیق کی ہے۔ انڈونیشین وزارتِ دفاع کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ریکو ریکارڈو سیرائٹ نے کہا کہ ملاقات میں مجموعی دفاعی تعاون، اسٹریٹجک ڈائیلاگ، ادارہ جاتی روابط کے فروغ اور طویل المدتی باہمی مفاد پر مبنی تعاون کے مواقع پر بات کی گئی، تاہم ابھی کسی حتمی فیصلے تک نہیں پہنچا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سوالوں کو بچائیں ۔۔۔
فوجی تعاون کی مزید تفصیلات
پاک فوج کے مطابق انڈونیشین وزیرِ دفاع نے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی ملاقات کی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی و عالمی سلامتی کی بدلتی صورتحال اور دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے کے امکانات پر گفتگو ہوئی۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان اینٹی اسٹبلشمنٹ نہیں، ناراضگی کی وجہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی سے کمپرومائز ہے: مظہر عباس
تعلیمی اور تربیتی مواقع
رپورٹ کے مطابق پاکستان نہ صرف جے ایف7 طیاروں بلکہ فضائی دفاعی نظام، انڈونیشین فضائیہ کے افسران اور انجینئرنگ اسٹاف کی تربیت پر بھی بات چیت کر رہا ہے۔ ایک ریٹائرڈ ایئر مارشل کے مطابق انڈونیشیا کے ساتھ معاہدہ زیر غور ہے اور طیاروں کی تعداد تقریباً 40 کے قریب ہو سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بشارالاسد کی جانب سے ٹنوں کے حساب سے ڈالر روس منتقل کئے جانے کا انکشاف
انڈونیشیا کی جدید فضائیہ کی ضروریات
انڈونیشیا اپنی پرانی فضائیہ کو جدید بنانے کے لیے پہلے ہی بڑے دفاعی سودے کر چکا ہے، جن میں فرانس سے رافیل طیاروں کی خریداری، ترکی سے کان فائٹر جیٹس کا معاہدہ، اور چین و امریکا سے جنگی طیاروں کی خریداری پر غور شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ میں شریک حیات کے انتقال کے بعد فیملی پنشن کی مدت 10 سال تک محدود کردی گئی
پاکستانی دفاعی صنعت کی عالمی مانگ
پاکستانی دفاعی صنعت میں دلچسپی میں حالیہ عرصے خصوصاً بھارت کے ساتھ محدود تنازع میں پاکستانی طیاروں کے استعمال کے بعد نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ جے ایف7 پہلے ہی آذربائیجان کے ساتھ معاہدے اور لیبیا کی نیشنل آرمی کے ساتھ اربوں ڈالر کے دفاعی پیکج کا حصہ بن چکا ہے۔
مستقبل کے ممکنہ معاہدے
مزید برآں پاکستان بنگلہ دیش کے ساتھ بھی دفاعی تعاون کے معاہدے پر غور کر رہا ہے، جس میں سپر مشاق تربیتی طیارے اور جے ایف7 شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے ساتھ بھی 2 سے 4 ارب ڈالر کے ممکنہ دفاعی معاہدے پر بات چیت جاری ہے。








