بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ آئینی قرار
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کو آئینی قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ویمنز ورلڈکپ کوالیفائرز کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان، فاطمہ ثنا کپتان مقرر
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان بریچ نے کیس کی سماعت کی، 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس 5878 پوائنٹ بلند
اٹک سیمنٹ کی پٹیشن مسترد
آئینی عدالت نے اٹک سیمنٹ کی بلوچستان حکومت کے خلاف دائر پٹیشن مسترد کرتے ہوئے "دوہرا پہلو اصول" کو تسلیم کرتے ہوئے قانون کو آئینی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور بورڈ میٹرک کے سالانہ امتحان کے نتائج کا اعلان 24 جولائی کو کرے گا
تحریری فیصلے کی تفصیلات
تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ ایک قانون کے وفاقی اور صوبائی دونوں پہلو ہو سکتے ہیں، اس لیے قانون درست ہے۔ معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی لیبر ویلفیئر کے لیے ہے، مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جی ایچ کیو حملہ کیس؛ شیریں مزاری سمیت مزید 9 ملزمان پر فردجرم عائد
لیبر ویلفیئر صوبائی اختیار
وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق لیبر ویلفیئر صوبائی اختیار ہے، اس لیے صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ صوبائی قانون وفاقی اختیار کو ختم نہیں کرتا بلکہ آئینی ہم آہنگی میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوری خان کے مہنگے ترین ریسٹورینٹ میں جعلی پنیر کھلانے کا الزام، ٹیم کا ردعمل آگیا
درخواست گزار کا موقف
درخواست گزار کی استدعا تھی کہ بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے ذریعے ایکسائز ڈیوٹی میں ترمیم کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔ درخواست میں موقف تھا کہ ایکسائز ڈیوٹی لگانا وفاقی اختیار ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار نہیں۔
ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ
بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے ذریعے معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں بڑا اضافہ کیا گیا۔








