بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ آئینی قرار
وفاقی آئینی عدالت کا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے تحت ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کو آئینی قرار دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میٹرو بس میں خواتین مسافروں کے کانوں سے بالیاں نوچنے والی 2 برقعہ پوش خواتین گرفتار
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق جسٹس عامر فاروق اور جسٹس روزی خان بریچ نے کیس کی سماعت کی، 15 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جسٹس عامر فاروق نے جاری کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان پر قرض اور ادائیگیوں کا بوجھ 89 ہزار 834 ارب تک پہنچ گیا
اٹک سیمنٹ کی پٹیشن مسترد
آئینی عدالت نے اٹک سیمنٹ کی بلوچستان حکومت کے خلاف دائر پٹیشن مسترد کرتے ہوئے "دوہرا پہلو اصول" کو تسلیم کرتے ہوئے قانون کو آئینی قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کا 26 ویں آئینی ترمیم کیلئے ایک بار پھر ووٹ نہ دینے کا اعلان
تحریری فیصلے کی تفصیلات
تحریری فیصلے میں لکھا ہے کہ ایک قانون کے وفاقی اور صوبائی دونوں پہلو ہو سکتے ہیں، اس لیے قانون درست ہے۔ معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی لیبر ویلفیئر کے لیے ہے، مقصد عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت کی شہید سکواڈرن لیڈر عثمان یوسف کے گھر آمد، اہلخانہ کے ساتھ اظہارِ تعزیت
لیبر ویلفیئر صوبائی اختیار
وفاقی آئینی عدالت کے فیصلے کے مطابق لیبر ویلفیئر صوبائی اختیار ہے، اس لیے صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا حق حاصل ہے۔ صوبائی قانون وفاقی اختیار کو ختم نہیں کرتا بلکہ آئینی ہم آہنگی میں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت کا علی امین کو گرفتار کرکے 26 اکتوبر کو پیش کرنے کا حکم
درخواست گزار کا موقف
درخواست گزار کی استدعا تھی کہ بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے ذریعے ایکسائز ڈیوٹی میں ترمیم کو غیر آئینی قرار دیا جائے۔ درخواست میں موقف تھا کہ ایکسائز ڈیوٹی لگانا وفاقی اختیار ہے جبکہ صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار نہیں۔
ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں اضافہ
بلوچستان فنانس ایکٹ 2020 کے ذریعے معدنیات پر ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں بڑا اضافہ کیا گیا۔








