جاوید بٹ کے قتل کیس: امیر فتح کی عبوری ضمانت منظور
لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائی کورٹ نے طیفی بٹ کے بہنوئی جاوید بٹ کے قتل کیس میں امیر فتح کی عبوری ضمانت 22 جنوری تک منظور کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: عدل وانصاف کی بالادستی معاشرتی ترقی کا ضامن ہے : وومن اسلامک لائرز فورم کے سالانہ کنونشن سے مقررین کا خطاب
سماعت کی تفصیلات
روزنامہ جنگ کے مطابق، جسٹس امجد رفیق نے ملزم امیر فتح کی عبوری ضمانت پر سماعت کی۔ عدالت نے مقدمے کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے پولیس کو 22 جنوری تک گرفتاری سے روک دیا۔ عدالت نے ملزم کو 50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: رواں سال کی پہلی سہ ماہی، سعودی معیشت میں بھاری اضافہ، شرح نمو کیا رہی؟
جج اور وکیل کے درمیان مکالمہ
دوران سماعت جسٹس امجد رفیق نے سوال کیا کہ ملزم امیر فتح کہاں ہے؟ امیر فتح کے وکیل نے کہا کہ ملزم عدالت کے اطراف میں ہے، پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اڈیالہ جیل میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی تک رسائی کا معاملہ، کیا اصلاحاتی کمیٹی کو ملنے سے روکا گیا۔۔۔؟اہم تفصیلات سامنے آ گئیں
عدالتی احکامات
جس پر جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ میرے لیے کیا حکم ہے میں باہر چلا جاؤں؟ وہاں جا کر حاضری لگوائیں؟
وکیل عابد ساقی نے کہا کہ میں تو اپنا قانونی حق استعمال کرنا چاہتا ہوں۔ جس پر جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ میں کیسے مان لوں کہ ملزم کو کسی نے روکا ہوا ہے؟
سیکیورٹی کی صورتحال
وکیل عابد ساقی نے کہا کہ لاہور کورٹ روم میں صحافی کھڑے ہیں ان سے پوچھیں باہر کتنی پولیس لگی ہے۔
جس پر جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ ایس پی سیکیورٹی ملزم کو کورٹ روم میں لے کر آئیں۔








