جعلی آرڈیننس لاکر صدر زرداری کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی، پلوشہ خان
جعلی آرڈیننس کا انکشاف
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما سینیٹر پلوشہ خان نے کہا ہے کہ جعلی دوائیوں اور جعلی ڈگریوں کا سنا تھا لیکن اب جعلی آرڈیننس بھی آنے لگے ہیں، جعلی آرڈیننس لاکر صدر زرداری کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: شورکوٹ کے قریب حادثہ، 5 مسافر جاں بحق، وزیراعلیٰ مریم نواز کا اظہار افسوس
آرڈیننس کے حوالے سے شکایات
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق پیپلز سیکرٹریٹ میں پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما چودھری منظور احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ کل ایک آرڈیننس بغیر صدر کے دستخط کے جاری ہوا۔ صدر زرداری کو بھی دھوکا دیا گیا اور ان کے ساتھ باریک واردات ڈالی گئی، صدر کے نام سے آرڈیننس جاری ہوا انہیں خبر ہی نہیں، حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ یہ غلطی سے ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں کمی
حکومت کی غلطیوں پر تنقید
پلوشہ خان نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی یہی مشورہ دے گی کہ ہوش کے ناخن لیں، پاکستان ایسی غلطیاں افورڈ نہیں کر سکتا، جو بھی ایسی غلطی کر رہا ان کو اپنی صفوں سے باہر نکالیں اور جعلی آرڈیننس کی فیکٹری کو بند کیا جائے۔ حکومت نے غلطی تسلیم کرکے آرڈیننس واپس لیا لیکن ایسی غلطیاں حکومتی اتحاد کے لئے نقصان دہ ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی اسرائیلی افواج کی جانب سے بیروت پر فضائی حملوں کی شدید مذمت
نجکاری کے مسائل
انہوں نے کہا کہ نیشنل شپنگ کارپوریشن کی نجکاری نہیں ہونے دیں گے، سمجھ نہیں آتی ان کو کون مشورے دیتا ہے، نجکاری پر پیپلز پارٹی کا واضح موقف ہے، پیپلز پارٹی اپنی آواز بلند کرے گی اور قوم کے سامنے حقائق لائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: اینٹی پاکستان مواد، تمام خلیجی ممالک نے بالی ووڈ فلم دھُرندھر پر پابندی لگادی
پی ٹی آئی کے سیاسی پاور شو پر ردعمل
پی ٹی آئی کے کراچی میں سیاسی پاور شو پر تبصرہ کرتے ہوئے پلوشہ خان نے کہا کہ باغ جناح بہت بڑا پارک ہے جسے بھرنا پی ٹی آئی کے لئے مشکل تھا، پی ٹی آئی نے اسی وجہ سے سڑک پر جلسہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: ماں ڈوبتے بچوں کو بچانے کی کوشش میں ان کے ساتھ جاں بحق
پی آئی اے کی نجکاری پر تحفظات
چوہدری منظور احمد نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں عوام کے ساتھ ڈاکہ مارا گیا ہے، بلیوایریا میں پی آئی اے کے دفتر کی بیس کروڑ روپے قیمت لگائی گئی اسی سے اندازہ کرلیں، پی آئی اے ایک سو پینتیس ارب کی گئی اسکی جائیدادیں ہی صرف دو سو ارب روپے کی ہیں، یہ چیزیں ہم کسی صورت نہیں کرنے دیں گے۔
نجکاری کمیٹی میں موقف
انہوں نے کہا کہ سینیٹر پلوشہ خان نجکاری کمیٹی میں بھی ہیں، انہوں نے پی آئی اے نجکاری پر کچھ دستاویزات مانگی لیکن نہیں دی گئیں، ہم حکومت کے ساتھ پارلیمنٹ میں ہیں باقی ہر حکومتی کام میں نہیں ہیں۔








