اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم، ڈی جی این سی سی آئی اے 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کے خلاف درخواست پر ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کو 18 جون تک گرفتار نہ کرنے کا حکم
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے ججز کے خلاف مہم پر کارروائی نہ کرنے پر این سی سی آئی اے پر اظہار برہمی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: رانا ثناء اللہ کے سیل میں پہلے چینی پھینکی جاتی تھی، پھر کیڑے آتے تھے: حامد میر
جسٹس علی ضیا باجوہ کا موقف
جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے۔ آئندہ ایسی کوئی پوسٹ نظر آئی تو ذمہ دار ڈی جی ہوں گے۔ ججز کے خلاف مہم چلانے والوں کی لسٹ تیار کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ججز کے خلاف مہم نہیں بلکہ سائبر دہشتگردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایس سی او: بھارتی وزیر دفاع کانفرنس کا مشترکہ اعلامیہ دیکھ کر تلملا گئے، دستخط سے انکار
عدالت کے سوالات
عدالت نے استفسار کیا کہ سرکاری وکیل بتائیں کیا این سی سی آئی اے کا ازخود اختیار ختم ہوگیا؟ جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ حشمت کمال صاحب، اب تک ایکشن کیوں نہیں ہوا؟ این سی سی آئی اے کیوں سو رہا ہے، کیا وجہ ہے؟
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی کی مولانا فضل الرحمان سے ملاقات، باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال
خوفناک مہم اور سرکاری ردعمل
عدالت نے کہا کہ ججز کے خلاف اتنی خوفناک مہم چلائی جارہی ہے، آپ کیوں خاموش ہیں؟ سیکشن 37 کہتا ہے غیر قانونی مواد کو ہٹانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پنجاب حکومت ججز کے خلاف مہم کی مذمت کرتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا معاملے پر کیا موقف ہے؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ وفاقی حکومت عدالتی حکم پر من و عن عمل کرے گی۔
ڈی جی این سی سی آئی اے کی طلبی
عدالت نے ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔








