اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم، ڈی جی این سی سی آئی اے 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کے خلاف درخواست پر ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کبھی اقرار کی صورت کبھی انکار کی صورت۔۔۔
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے ججز کے خلاف مہم پر کارروائی نہ کرنے پر این سی سی آئی اے پر اظہار برہمی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: صدر ٹرمپ نے وہ قدم اٹھالیا جو 1965 کے بعد کسی امریکی صدر نے نہیں اٹھایا
جسٹس علی ضیا باجوہ کا موقف
جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے۔ آئندہ ایسی کوئی پوسٹ نظر آئی تو ذمہ دار ڈی جی ہوں گے۔ ججز کے خلاف مہم چلانے والوں کی لسٹ تیار کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ججز کے خلاف مہم نہیں بلکہ سائبر دہشتگردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موبی لنک بینک نے پاکستان بینکنگ ایوارڈز 2024 میں ’بہترین مائیکروفنانس بینک‘ کا اعزاز حاصل کرلیا.
عدالت کے سوالات
عدالت نے استفسار کیا کہ سرکاری وکیل بتائیں کیا این سی سی آئی اے کا ازخود اختیار ختم ہوگیا؟ جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ حشمت کمال صاحب، اب تک ایکشن کیوں نہیں ہوا؟ این سی سی آئی اے کیوں سو رہا ہے، کیا وجہ ہے؟
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد کچہری خودکش حملے کا ایک اور اہم سہولت کار گرفتار
خوفناک مہم اور سرکاری ردعمل
عدالت نے کہا کہ ججز کے خلاف اتنی خوفناک مہم چلائی جارہی ہے، آپ کیوں خاموش ہیں؟ سیکشن 37 کہتا ہے غیر قانونی مواد کو ہٹانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پنجاب حکومت ججز کے خلاف مہم کی مذمت کرتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا معاملے پر کیا موقف ہے؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ وفاقی حکومت عدالتی حکم پر من و عن عمل کرے گی۔
ڈی جی این سی سی آئی اے کی طلبی
عدالت نے ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔








