اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم، ڈی جی این سی سی آئی اے 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کے خلاف درخواست پر ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او کی قائم مقام امریکی سفیر سے ملاقات، اب نوجوانوں پر سرمایہ کاری کا وقت ہے: بلال بن ثاقب
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے ججز کے خلاف مہم پر کارروائی نہ کرنے پر این سی سی آئی اے پر اظہار برہمی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آئی اے ای اے کی پاکستانی جوہری تنصیبات سے تابکاری کے اخراج کی تردید
جسٹس علی ضیا باجوہ کا موقف
جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے۔ آئندہ ایسی کوئی پوسٹ نظر آئی تو ذمہ دار ڈی جی ہوں گے۔ ججز کے خلاف مہم چلانے والوں کی لسٹ تیار کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ججز کے خلاف مہم نہیں بلکہ سائبر دہشتگردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈر علی شادمانی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے
عدالت کے سوالات
عدالت نے استفسار کیا کہ سرکاری وکیل بتائیں کیا این سی سی آئی اے کا ازخود اختیار ختم ہوگیا؟ جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ حشمت کمال صاحب، اب تک ایکشن کیوں نہیں ہوا؟ این سی سی آئی اے کیوں سو رہا ہے، کیا وجہ ہے؟
یہ بھی پڑھیں: ایران کے نامور آرٹسٹ سعید کامرانی کے فن پاروں کی نمائش
خوفناک مہم اور سرکاری ردعمل
عدالت نے کہا کہ ججز کے خلاف اتنی خوفناک مہم چلائی جارہی ہے، آپ کیوں خاموش ہیں؟ سیکشن 37 کہتا ہے غیر قانونی مواد کو ہٹانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پنجاب حکومت ججز کے خلاف مہم کی مذمت کرتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا معاملے پر کیا موقف ہے؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ وفاقی حکومت عدالتی حکم پر من و عن عمل کرے گی۔
ڈی جی این سی سی آئی اے کی طلبی
عدالت نے ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔








