اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم، ڈی جی این سی سی آئی اے 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کے خلاف درخواست پر ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری حج سکیم 2026 کے لیے درخواستوں کی وصولی کا پہلا مرحلہ مکمل
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی سوشل میڈیا پر کردار کشی مہم کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے ججز کے خلاف مہم پر کارروائی نہ کرنے پر این سی سی آئی اے پر اظہار برہمی کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب میں فری سولر پینل پراجیکٹ کیلئے 4ارب روپے جاری
جسٹس علی ضیا باجوہ کا موقف
جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ ہم اس معاملے کی تہہ تک جائیں گے۔ آئندہ ایسی کوئی پوسٹ نظر آئی تو ذمہ دار ڈی جی ہوں گے۔ ججز کے خلاف مہم چلانے والوں کی لسٹ تیار کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ججز کے خلاف مہم نہیں بلکہ سائبر دہشتگردی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایرانی نوبل انعام یافتہ انسانی حقوق کی کارکن نرگس محمدی کو ساڑھے 7 سال قید کی سزا سنا دی گئی
عدالت کے سوالات
عدالت نے استفسار کیا کہ سرکاری وکیل بتائیں کیا این سی سی آئی اے کا ازخود اختیار ختم ہوگیا؟ جسٹس علی ضیا باجوہ نے کہا کہ حشمت کمال صاحب، اب تک ایکشن کیوں نہیں ہوا؟ این سی سی آئی اے کیوں سو رہا ہے، کیا وجہ ہے؟
یہ بھی پڑھیں: ججز تقرری کیلئے نامزدگی پر ایم کیو ایم میں اختلافات سامنے آگئے
خوفناک مہم اور سرکاری ردعمل
عدالت نے کہا کہ ججز کے خلاف اتنی خوفناک مہم چلائی جارہی ہے، آپ کیوں خاموش ہیں؟ سیکشن 37 کہتا ہے غیر قانونی مواد کو ہٹانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ پنجاب حکومت ججز کے خلاف مہم کی مذمت کرتی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ وفاقی حکومت کا معاملے پر کیا موقف ہے؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ وفاقی حکومت عدالتی حکم پر من و عن عمل کرے گی۔
ڈی جی این سی سی آئی اے کی طلبی
عدالت نے ڈی جی این سی سی آئی اے کو 15 جنوری کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔








